نیب حکام شریف خاندان کی کمپنیوں کے شیئر اور دستاویزات عدالت میں پیش کریں: لاہور ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہورہائیکور ٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن اور مسٹر جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل احتساب اپیلٹ بینچ نے شریف برادران کی جائیداد ضبط کرنے پر نیب کے خلاف دائراپیلوں پر نیب کے وکیل کے مہلت طلب کرنے پر انہیں جواب دائر کرنے کےلئے مہلت دیتے ہوئے مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی ہے جبکہ ڈی جی نیب کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ تاریخ سماعت پر قبضہ میں لی گئی نواز شریف فیملی کی تمام کمپنیوں کے شیئرز اور انکی جائیداد کی دستاویزات عدالت میں پیش کریں۔ گزشتہ روز سماعت کے آغاز پر نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں حال ہی میں نیب میں لگایا گیا ہے چنانچہ اس کیس میں جواب دائر کرنے کےلئے انہیں مزید مہلت چاہیے کیونکہ اس کیس کا ریکارڈ مختلف جگہوں پر ہے جسے اکٹھا کرنے میں وقت لگے گا۔ چنانچہ متعلقہ ریکارڈ لاہور اسلام آباد اور کراچی سے منگوانے کےلئے انہیں 3 ہفتوںکی مہلت دی جائے مگر عدالت نے تین ہفتوں کی بجائے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالت نے8 جولائی کو نیب کو نوٹس جاری کئے تھے لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود جواب داخل نہیں کیا گیا۔ نواز شریف شہباز شریف حمزہ شہباز اوردیگر کی جانب سے شاہد حامد ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں موقع اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں اٹک کی احتساب عدالت اور کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سزائیں سنائی تھیں ۔جس کے بعد نیب نے انکی جائیدادضبط کر لی تھی مگر بعد ازاں ہائیکورٹ نے انکی اٹک احتساب عدالت والی سزا اور سپریم کورٹ نے باقی ماندہ دہشت گردی کے حوالے سے دی گئی سزائیں معاف کر دیں تھیں لیکن اس کے باوجود مذکورہ جائیداد واگزار کروانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس ضمن میں نیب انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہا ہے اور مذکورہ جائیداد واگزار نہیں کی جا رہی۔ یاد رہے کہ قبل ازیں یہ اپیلیں پنڈی بینچ میں دائر کی گئی تھیں مگر وہاں احتساب اپیلٹ بینچ کے عدم موجودگی کے باعث یہ اپیلیں لاہور منتقل کر دی گئی تھیں۔