ڈرون حملے نہیں رکیں گے، نوازشریف امریکہ سے خالی ہاتھ لوٹ آئے: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اور امریکی صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات جس کا کافی عرصے سے شور تھا، بالآخر ہو تو گئی لیکن امریکی صدر نے سخت سردمہری کا مظاہرہ کیا اور میاں نوازشریف صاحب خالی ہاتھ لوٹ آئے، ڈرونز حملے روکنے، عافیہ صدیقی کی رہائی اور مسئلہ کشمیر کے حل کرانے کے بارے میں نوازشریف کے کسی مطالبے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا بلکہ ان پر واضح کیا گیا ہے کہ ڈرون پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا مشترکہ اعلامیہ میں ان باتوں کا کہیں ذکر تک نہیں ہے جو پاکستانی عوام کیلئے باعث حیرت ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو جو مالی امداد دی ہے وہ نقصان کے مقابلے میں عشر عشیر بھی نہیں۔ منور حسن نے کہا میاں نوازشریف نے لندن پہنچ کر میڈیا کے سامنے یہ بیان دیا ہے کہ ’’ڈرون حملے وار کرائم کے زمرے میں نہیں آتے اور وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے‘‘ انکا یہ بیان شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ امریکی حکمرانوں کا رویہ آقا اور غلام جیسا ہے۔ بھکاری اور مقروض قوموں کی کوئی عزت و وقار نہیں ہوتا۔ کرپشن کو روکیں اور قوم کا لوٹا ہوا پیسہ بیرون ملک سے واپس لائیں اور ملک کے اندر جن لوگوں نے کرپشن کی ہے، اس پیسے کو ان کے پیٹوں سے نکالا جائے، کرپشن کو روکا جائے اور ٹیکس کا نیٹ ورک بڑھایا جائے۔ جب تک ہم خود انحصاری کی پالیسی نہیں اپناتے، حکمران اللے تللوں، فضول خرچی اور اپنے خاندانوں کے ساتھ بیرون ملک دورے کم نہیں کرتے، ہم اسی طرح دنیا کی قوموں میں رسوا ہوتے رہیں گے۔