نواز شریف کا دورہ امریکہ کامیاب رہا: احسان وائیں‘ ناکام رہا : نوید چودھری

نواز شریف کا دورہ امریکہ کامیاب رہا: احسان وائیں‘ ناکام رہا : نوید چودھری

 لاہور( سیف اللہ سپرا) ممتاز سیاستدانوں نے وزیراعظم محمد نوازشریف کے دورہ امریکہ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے گزشتہ روز ایوان وقت میں گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما احسان وائیں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات 1951ءسے شروع ہوئے اس وقت پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ضرورت نہ تھی یہ تعلقات آج تک یکطرفہ نوعیت کے ہیں کیونکہ وہ سپر پاور ہے اور پاکستان معاشی طورپر بہت کمزور ملک ہے ہم نے ہمیشہ امریکی مفاد کی نگرانی کی چونکہ پاکستان میں زیادہ تر آمریت رہی۔اس لئے یہ امریکی مفاد کا تحفظ کرتے رہے۔امریکہ دہشت گرد پاکستان میں لے کر آیا ۔ وزیراعظم نواز شریف اور صدر اوباما کے درمیان دہشت گردی اور جمہوریت، افغانستان، پاکستان، بھارت تعلقات اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات پر بات چیت ہوئی اس کے علاوہ نواز شریف نے ڈرون حملوں کو ختم کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور یہ طے پایا کہ ڈرون حملے کم ہوجائیں گے مگر ختم نہیں ہوںگے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دورے میں پاکستان امریکہ تعلقات میں کشیدگی کسی حد تک کم ہوئی اور اس لحاظ سے نوا ز شریف کا یہ دورہ کامیاب رہا۔ دورے کی وجہ سے امریکہ نے 1.6 ارب کی معاشی اور فوجی امداد بحال کردی جبکہ پاکستان،افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی ہوگی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے پولیٹیکل کو آرڈینیٹر نوید چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کا دورہ امریکہ ناکام رہا۔ جن مقاصد کیلئے یہ دورہ کیا گےا وہ مقاصد اس ایجنڈے میں شامل نہیں تھے ،گو نواز شریف نے اپنے تئیں مکمل پروگرام عوام کو سنایا امریکی وزارت خارجہ کی بریفنگ نے میاں نواز شریف کے اس تاثر کو کہ انہیں بہت سی کامیابیاں ملیں زائل کردیا، امریکہ نے کیری لوگر بل کی 146 بلین ڈالر کی امداد بحال کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دورہ صرف ایک فوٹو سیشن تھا۔ وزیراعظم نے جان کیری، جوبائیڈن سمیت دیگر لیڈروں سے ملاقات کرکے اپنے قد کو گھٹایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کا معاملہ ہو یا شکیل آفریدی کی بات ہو یا حافظ سعید اور جماعت الدعوة کی بات ہو یا پھر مسئلہ کشمیر ہو ان معاملات پر امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی اور نہ ہی کوئی معاشی اور اقتصادی لحاظ سے کوئی نئی بات سامنے آئی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ امریکہ کے حوالے سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نائن الیون کے بعد سے اب تک افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور امریکی مداخلت کی وجہ سے پورا خطہ تضادات، اختلافات کا شکار ہوگیا۔ دہشت گردی، انتہا پسندی، ردعمل اور ظلم کے خلاف انتقام کے جذبات پوری شدت کے ساتھ بڑھ گئے ہیں۔ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے کوئی دو ررس اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ اس نے ماضی کی طرح اب بھی صرف لالی پاپ ہی دیا ہے جب تک پاکستان امداد، قرضوں اور بھیک کیلئے کشکول پھیلاتا رہے گا اس وقت تک اغیار سے بہتر ی کی کوئی توقع عبث ہے۔ وزیراعظم اگر 9ستمبر کی اے پی سی کے فیصلوں پر عمل کرلیتے، پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے بیرونی عناصر کو عالمی سطح پر بے نقاب کرکے دورہ پر جاتے تو اس دورہ کے اثرات مختلف ہوتے۔ وزیراعظم نواز شریف نے امریکی صدر اوباما سے ملاقات میں ڈرون حملے بند کرنے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کیلئے دباﺅ نہیں ڈالا۔