محرم الحرام: خواتین خودکش بمبار کی کارروائی اور پولیس وردیوں میں دہشت گردی کی اطلاعات

لاہور (احسان شوکت سے) حساس اداروں نے اطلاع دی ہے کہ دہشت گرد محرم الحرام میں خواتین خودکش بمبار کے علاوہ پولیس وردیوں میں ملبوس ہو کر دہشت گردی کی بڑی کارروائی کر سکتے ہیں جبکہ ایک صوبائی علیحدگی پسند تنظیم کی جانب سے انارکلی ٹورسٹ سٹریٹ طرز کے دھماکے کر کے بھی خوف و ہراس کی فضا بنائی جا سکتی ہے جس پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے ادارے، انٹیلی جنس ایجنسیاں امن و امان قائم رکھنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ 37 ہزار ایک سو مجالس اور 97 سو تعزیتی جلوس نکالے جائیں گے جن کی سکیورٹی کیلئے 1 لاکھ 36 ہزار پولیس افسران، اہلکاروں اور رضاکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی۔ پنجاب کے 8 اضلاع لاہور، جھنگ، ملتان، فیصل آباد، سرگودھا، بہاولپور، راولپنڈی اور وہاڑی انتہائی حساس قرار دیئے گئے ہیں۔ سکیورٹی انتظامات حساس مقامات کو کٹیگری اے، بی اور سی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حساس اداروں کی اطلاع کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس و دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی جائے گی اور کسی کو بھی جلوس کے راستے یا مجلس میں شناخت کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ پولیس اہلکاروں کو سپیشل شناختی کارڈز جاری کئے جائیں گے جو کہ وہ وردی پر آویزاں کرینگے۔ خواتین سمیت ہر کسی کو تین مقامات پر چیکنگ کے بعد جلوس کے روٹ یا اہم مجالس میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ مجالس سے ملحقہ اونچی عمارتوں اور جلوس کے روٹ پر عمارتوں پر دوربینوں سے لیس سنائپر تعینات کئے جائیں گے۔ جدید آلات سے چیکنگ اور سکریننگ کے علاوہ سراغ رساں کتوں کی مدد لی جائے گی جبکہ اجازت نامے کے بغیر کسی کو مجلس منعقد کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ جلوس کے روٹ اور وقت کی پابندی کو ہر صورت م مکن بنایا جائے گا۔ حساس اضلاع میں رینجرز کے دستوں کے گشت کے علاوہ آرمی کے 1 سو 5 جبکہ رینجرز کے 40 دستوں کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سٹینڈبائی رکھا جائیگا۔
محرم/ سکیورٹی