لوڈ شیڈنگ جاری، شہروں میں 10، دیہات میں 16 گھنٹے بجلی بند

لاہور (نیوز رپورٹر + نامہ نگاران) ملک میں گذشتہ روز بھی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ کئی شہروں میں 8 سے 10 گھنٹے اور دیہات میں 16 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کی گئی جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کئی شہروں اور دیہات میں پانی کی بھی شدید قلت رہی۔ دوسری جانب ارسا کی جانب سے ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے جس کے باعث بجلی کی ہائیڈرل پیداوار میں بھی کمی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ گذشتہ روز ملک کے ہائیڈرل پاور جنریشن یونٹوں سے 3800 میگا واٹ بجلی حاصل ہوئی۔ 15 نومبر کے بعد ارسا کی جانب سے ڈیموں سے پانی کے اخراج میں نمایاں کمی کر دی جائے گی جس کے بعد ہائیڈرل کی پیداوار کم ہو کر دو ہزار میگاواٹ کی سطح سے بھی کم ہو جائے گی ۔ حکومت کی جانب سے پی ایس او اور آئی پی پیز کو ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے پی ایس او کی جانب سے تیل کی سپلائی میں کمی جبکہ آئی پی پیز کی جانب سے پیداوار میں مرحلہ وار کمی کی جا رہی ہے۔ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پندرہ نومبر کے بعد بجلی کی ڈیمانڈ میں کمی کے باوجود ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس موقع پر ملک میں گیس کی بھی قلت ہو گی جس کے باعث گیس سے چلنے والے پاور جنریشن یونٹس بھی بند ہو جائیں گے۔ شرقپور شریف سے نامہ نگار کے مطابق شہر اور گردونواح میں لوڈ شیڈنگ دورانیہ 16 سے 18 گھنٹوں تک پہنچ گیا، لوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافے سے لوگوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی، پیر محل سے نامہ نگار کے مطابق پیرمحل میں غیر اعلانیہ بجلی لوڈ شیڈنگ دورانیہ 16 گھنٹوں سے بھی تجاوز کر جانے کی وجہ سے تمام کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا۔