حکومت بلدیاتی الیکشن غیرجماعتی کرانے کے قانونی جواز پر دلائل دے: ہائیکورٹ

حکومت  بلدیاتی الیکشن  غیرجماعتی  کرانے کے قانونی جواز پر دلائل  دے: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال اور مسٹر جسٹس فرح عرفان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروانے کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے سرکاری وکلاء کو دلائل دینے کا حکم دیا ہے۔ فاضل عدالت نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی کہ حلقہ بندیوں کی تشکیل میں حکومت کے آئینی اختیارات اور لوکل گورنمنٹ کے الیکشن جماعتی بنیادوں پر نہ کروانے کے قانونی و آئینی جواز پر دلائل دیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں یہ درخواستیں  پیپلز پارٹی،  تحریک انصاف، (ق)  لیگ اور مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔گزشتہ روز  سماعت کے دوران لائرز فائونڈیشن اور  تحریک انصاف کے وکلاء نے اپنے اپنے دلائل عدالت میں پیش کئے اور عدالت کو بتایا کہ حکومت کو حلقہ بندیوں کے حوالے سے کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس میں مداخلت کرے مگر حکومت براہ راست حلقہ بندیوں کی تشکیل میں مداخلت کر رہی ہے۔ عدالت صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات کو غیر جماعتی  بنیادوں پر کروانے او ر حلقہ بندیوں کی تشکیل کے حوالہ سے نوٹس لینے کا اختیار رکھتی ہے۔  غیرجماعتی بلدیاتی انتحابات صرف آمریت کے ادوار میں ہوا کرتے تھے جمہوری حکومت کو اس طرح کے اقدامات نہیں کرنے چاہئے۔ غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ غیرجماعتی بلدیاتی انتخابات سے معاشرے میں کرپشن کو فروغ ملے گا۔  عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28  اکتوبر تک ملتوی کر دی۔