حکومتی رٹ کمزور ہونے سے ونی اور کاروکاری کے واقعات میں اضافہ

لاہور (شہزادہ خالد) ملک بھر میں قتل و غارت، ڈکیتیوں کی وارداتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومتی رٹ کمزور ہونے سے ونی اور کاروکاری کے واقعات میں بھی تیزی آگئی ہے۔ گذشتہ برس کاروکاری کے 188 اور ونی کے 195 کیس سامنے آئے۔ رواں برس کی پہلی ششماہی کے دوران کاروکاری کے 98 اور ونی کے 93 واقعات ہوئے، 198 کمسن لڑکیوں کی جبری شادیاں کی گئیں۔ جنوری 2013ء  میں کاروکاری کے13، ونی کے 11، فروری میں 10 اور13، مارچ میں 12 اور 18، اپریل میں 16 اور 20، مئی میں 19 اور 14 اور جون میں کاروکاری کے 23 اور ونی کے 17 کیس سامنے آئے۔ کاروکاری اور ونی کے زیادہ تر واقعات صوبہ سندھ میں پیش آئے۔ جنوبی پنجاب میں بھی ونی کے کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کے جن علاقوں میں حکومت کی گرفت کمزور ہے وہاں ونی اور کاروکاری کے واقعات پیش آتے ہیں۔ جن علاقوں میں ابھی تک جاگیرداری نظام کا غلبہ ہے وہاں کاروکاری اور ونی کی رسمیں جاری ہیں اور پنچائت، جرگے میں کاروکاری اور ونی کا حکم سز اکے طور پر دیا جاتا ہے۔ ونی میں دی جانیوالی زیادہ تر لڑکیوں کی عمریں 12 سال سے کم ہوتی ہیں۔