سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے محکمہ اینٹی کرپشن کے لئے لیبارٹری سہولت مشروط کر دی

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب نے محکموں کی بااثر ملزموں کے خلاف اربوں روپے کی تحقیقات پر اثرانداز ہونا شروع کر دیا ہے۔ سیکرٹری سی این ڈبلیو نے ان تحقیقات کے لئے لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولت پیشگی اجازت سے مشروط کر دی ہے۔ انہوں نے اپنے محکمے کے افسروں کو بھی اجازت کے بغیر اینٹی کرپشن میں انکوائری کے لئے پیش ہونے سے بھی روک دیا ہے جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن نے چیف سیکرٹری پنجاب کو تمام محکموں کے سیکرٹریوں بالخصوص سیکرٹری سی این اینڈ ڈبلیو کے روئیے پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مختلف حربوں سے محکمہ اینٹی کرپشن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ نئی شرط کے باعث بے شمار انکوائریاں رک گئی ہیں لہٰذا چیف سیکرٹری اس معاملے پر ایکشن لیں۔ چیف سیکرٹری نے اس پر سیکرٹری سروسز کو تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا موقف ہے کہ اس کے سیکرٹری نے صرف لاہور کی دو لیبارٹریوں کو اجازت سے مشروط کیا ہے۔ تاہم محکمہ اینٹی کرپشن کا موقف ہے کہ پورے پنجاب کی لیبارٹریوں کو اجازت کے بغیر سیمپل لینے سے روکا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیبارٹری اپنی پسند کے سیمپل لے گی جبکہ بھاری رقوم کے عوض کرپٹ افسروں کے حق میں رپورٹ جاری کرنے کی پہلے ہی بے شمار شکایات موجود ہیں۔