سیشن کورٹ لاہورمیں ذاتی رنجش پرفائرنگ کرکے وکیل کو ہلاک کردیا گیا

سیشن کورٹ لاہورمیں ذاتی رنجش پرفائرنگ کرکے وکیل کو ہلاک کردیا گیا

سیشن کورٹ لاہور میں موجود وکلا کے مطابق دوبجے کے بعد ایک حملہ آورنے عقبی دیوارسے آکرمحبوب علی چودھری ایڈووکیٹ کو ان کے دفترمیں گولیاں ماردیں ۔ فائرنگ سے ایک دوسرے وکیل کے منشی قمرچودھری سمیت تین افراد زخمی ہوئے اورعمارت میں بھگدڑمچ گئی۔ وکلا نے عدالت میں موجود پولیس کو جوابی کارروائی کرنے کوکہا مگر اہلکارغائب ہوگئے۔ اس دوران ایک وکیل نے حملہ آورپر فائرنگ کردی جس سے وہ زخمی ہوگیا اورجس دیوار سے آیا اس کی دوسری طرف خالی پلاٹ میں جاگرا اورخود کو گرنیڈ سے اڑا دیا۔ اس واقعہ کے بعد ایس پی آپریشنز پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ پہنچے اورعلاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ جس کے بعد وکلا پھر سیشن کورٹ میں آگئے اور اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو ذمہ دارقراردیا۔ کمشنر لاہور خسرو پرویز نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اورمیڈیا سے گفتگو میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا وعدہ کیا۔ حملہ آور کی لاش جائے وقوعہ پر دوگھنٹے تک پڑی رہی۔ بعد میں اسے پوسٹمارٹم کے لئے ڈیڈہاؤس منتقل کردیا گیا۔ حملہ آور کی شناخت ڈاکٹر حنیف کامران کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ باغبانپورہ میں پرائیویٹ ہسپتال کامالک ہے۔ ذرائع کے مطابق محبوب علی چودھری ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر حنیف کامران کے درمیان ایک عرصے سے دشمنی چلی آرہی تھی ۔ مرنے والے ڈاکٹرحنیف کے خلاف تھانہ نولکھا میں قتل، زیادتی اورڈکیتی کے مقدمات بھی درج ہیں۔