مذاکرات کامیاب، ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج، ہڑتال کی کال واپس لے لی

مذاکرات کامیاب، ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج، ہڑتال کی کال واپس لے لی

لاہور (نیوز رپورٹر) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے منگل کے روز مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے صحت خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت پنجاب بابر حیات تارڑ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج اور ہڑتال کی کال واپس لے لی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز، پرنسپل سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پروفیسر حامد محمود بٹ، YDA کے نمائندے ڈاکٹر حامد بٹ، ڈاکٹر جاوید آہیر، ڈاکٹر عامر بندیشہ کے علاوہ ینگ ڈاکٹرز کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ اس موقع پر خواجہ سلمان رفیق نے ینگ ڈاکٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کی اصل لیڈر شپ ڈاکٹرز ہیں جنہوں نے محکمہ صحت کو چلانا ہے اور مریضوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ حکومت نے ینگ ڈاکٹرز اور دیگر کیڈرز کے ڈاکٹروں کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے اور اب تک 90 فیصد نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ سیکرٹری صحت بار حیات تارڑ نے کہا کہ پنجاب پبلک سروس کمشن سے سلیکٹ ہو کر آنے والے ڈاکٹرز جو پچھلے کئی ماہ سے ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے انہیں قانون کے مطابق برطرف کیا گیا تھا تاہم ڈاکٹرز اپیل کا حق رکھتے ہیں اور اگر وہ اپنی برطرفی کے خلاف درخواست کے ذریعے اپیل کریں تو انہیں ڈیوٹی پر بحال کر دیا جائے گا۔  پوسٹ گریجویشن کرنے والے پی جی ٹرینی ڈاکٹرز کو اپنی ٹریننگ مکمل کرنے کا موقع دیا جائے گا اور جو ڈاکٹرز ہائوس جاب شروع کر چکے ہیں انہیں ہائوس جاب بھی مکمل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ خواجہ سلمان رفیق نے ینگ ڈاکٹرز کو یقین دلایا کہ نہ صرف ینگ ڈاکٹرز بلکہ دیگر کیڈرز کے سینئر ڈاکٹرز کو اگلے گریڈوں میں ترقی دینے اور دیگر معاملات کے سلسلہ میں محکمہ صحت پوری سنجیدگی کے ساتھ دن رات کام کررہا ہے۔ خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت کی واضح یقین دہانی اور تفصیلات سے آگاہ کرنے پر ینگ ڈاکٹرز نے اپنی ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ آئی این پی کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ کے مشیر خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ پنجاب حکومت ینگ ڈاکٹرز کے تمام مسائل کو حل کرے گی لیکن احتجاج سے ہسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ینگ ڈاکٹرز احتجاج سے گریز کریں۔ علاوہ ازیں خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مستحکم کرنے کیلئے سخت مانیٹرنگ کی ضرورت ہے تا کہ بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت پر ڈاکٹروں کی حاضری اور لازمی ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بات پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے ضروری اصلاحات کے سلسلہ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ خواجہ سلمان رفیق نے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ ضلع کی سطح پر مراکز صحت  اور سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی مانیٹر کرنے کیلئے ای ڈی او ز صحت، ڈی اوز اور ڈی ڈی اوز صحت کو پابند کیا جائے اور ای ڈی اوز صحت مذکورہ افسران کی کارکردگی کے بارے جوابدہ ہو اور صوبے کی سطح پر ای ڈی اوز صحت کی مانیٹرنگ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور سیکرٹری صحت کریں تا کہ غیرتسلی بخش اور بُری کارکردگی پر متعلقہ افسران سے باز پرس کی جائے جب تک جزا و سزا کی سخت پالیسی نہیں اپنائی جائے گی چیزیں پوری طرح درست نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اب سسٹم میں سست اور فرائض سے غفلت برتنے والے اور بدعنوان عناصر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔