فرقہ وارانہ قتل و غارت کے خاتمہ کیلئے ملک کے کونے کونے میں جائینگے: حافظ سعید

فرقہ وارانہ قتل و غارت کے خاتمہ  کیلئے ملک کے کونے  کونے میں جائینگے: حافظ  سعید

لاہور (خصوصی نامہ نگار)  امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ سعید نے کہا ہے کہ 23  مارچ کو ملک بھر میں ہونے والے احیائے نظریہ پاکستان مارچ، جلسے اور کانفرنسیں ہماری تحریک کا نقطہ آغاز ہیں۔  فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کے خاتمہ اور اتحاد و یکجہتی کی فضا پیدا کرنے کیلئے وطن عزیز پاکستان کے کونے کونے میں جائیں گے اور اس تحریک کومزید تیز کریں گے۔ قومیتوں اور لسانیت پرستی کی بجائے قوم کو کلمہ کی بنیاد پر متحد کریں گے۔ کلمہ طیبہ کی دعوت عام کرنے کیلئے کارکنان ہر پاکستانی شہری تک پہنچیں اور انہیں قیام پاکستان کے مقاصد اور دشمنان اسلام کی سازشوں سے آگاہ کریں۔ وہ مرکز القادسیہ چوبرجی میں جماعۃالدعوۃ  کے مرکزی، صوبائی و ضلعی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلا س میں جماعۃالدعوۃ شعبہ دعوت و اصلاح کے ناظم مولانا سیف اللہ خالد نے یوم پاکستان کے حوالہ سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ 23مارچ کو نظریہ پاکستان کے احیاء کیلئے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پانچوں صوبوں و آزاد کشمیر میں نظریہ پاکستان مارچ، جلسوں اور کانفرنسوںکا انعقاد کیا گیا جن میں مجموعی طور پر لاکھوں افراد نے شرکت کی اور تحفظ نظریہ پاکستان کے سلسلہ میں چلائی جانے والی تحریک میں بھرپور حصہ لینے کا عزم کیا۔  حافظ سعید نے کہا نظریہ پاکستان کے احیاء کی اس مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ہے اور مزید تیز کرنا ہے۔ اجلاس کے دوران ضلعی و زونل ذمہ داران نے بھی اپنے شہروں میں ہونے والے پروگراموں کی رپورٹیں پیش کیں۔ حافظ سعید نے کہاکہ فرقہ واریت، لسانیت اور قومیتوں کے جھگڑے ختم کرنے کیلئے جلد وسیع تر اتحاد قائم کریں گے۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے رابطے و ملاقاتیں کی جا رہی ہیں جنہوں نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اہل پاکستان خاص طور پر نوجوان نسل کو قیام پاکستان اور نظریہ پاکستان کی اہمیت سے آگاہ کرنا اہم ضرورت ہے۔  پاکستان اس وقت سخت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ وہی بھارت جس سے ہم الگ ہوئے‘ اس نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا اور ہمیشہ پاکستان کی سالمیت و خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی ہرممکن سازشیں کیں۔ ان حالات میں جب سخت فکری انتشار پھیلا دیا گیا ہے۔ نصاب تعلیم کو تبدیل کر کے ملک کو سیکولر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔