بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ جاری‘ عوام کی زندگی اجیرن‘ کئی شہروں میں احتجاج

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ جاری‘ عوام کی زندگی اجیرن‘ کئی شہروں میں احتجاج

لاہور+ اسلام آباد (نیوز رپورٹر + نامہ نگاران+نوائے وقت رپورٹ) لاہور سمیت مختلف شہروں میں طویل لوڈشیڈنگ جاری، پانی کی بھی قلت، کاروبار متاثر، عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی، کئی شہروں میں احتجاج۔ لاہور اور اس کے مضافات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ لیسکو نے رمضان المبارک میں تمام فیڈرز کو مانیٹر کرنے کیلئے سپیشل کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے واضح احکامات ہیں رمضان المبارک میں بجلی کی مسلسل فراہمی کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں۔ لیسکو حکام نے اس صورتحال کو دیکھتے کمیٹی قائم کر رکھی ہے جو تمام گرڈ سٹیشن کو مسلسل مانیٹر کررہی ہے۔ اس بارے میں لیسکو آپریشن ڈائریکٹر اسد اللہ کا کہنا ہے رمضان میں سحری و افطاری اور تراویح کے دوران بجلی کی فراہمی جاری ہے، کسی بھی علاقے سے بجلی کی بندش کی شکایت نہیں آئی۔ لوڈشیڈنگ شیڈول کو سحری و افطاری اور تراویح کے علاوہ عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب لاہور کے دیگر حصوں میں 8 گھنٹے سے دس گھنٹے تک بجلی بند کی جا رہی ہے۔ نامہ نگار خصوصی کے مطابق شیخوپورہ شہر اور قریبی آبادیوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ سے بجلی کے صارفین بلبلا اٹھے گھروں میں بیٹھی متعدد خواتین اور بچے بوڑھے بے ہوش بھی ہوئے مگر لیسکو شیخوپورہ کے حکام کو شہریوں پر کسی قسم کا کوئی ترس نہیں آیا۔ ہاؤسنگ کالونی برج والا روڈ بھکھی روڈ آرائیانوالہ روڈ کے درجنوں صارفین نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا لاہور روڈ پر مختلف مقامات پر لوگوں نے روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا اور لیسکو کے چیف سے مطالبہ کیا ہے شیخوپورہ میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ٹیلی فون اٹینڈ نہ کرنے والے ایکسیئن سٹی کو معطل کر کے کارروائی کی جائے۔ شاہدرہ اور ملحقہ علاقوں میں شہری سراپا احتجاج بن گئے شاہدرہ چوک اور شرقپور روڈ پر ٹریفک جام کر دی ٹائروں کو آگ لگا کر واپڈا کے خلاف نعرے بازی کی۔شہریوں کے مطابق سارا سارا دن بجلی کی فراہمی معطل رہنے سے پانی اور سحری افطاری کے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شہری سڑکوں پر آ گئے۔ شرقپور شریف میں سحری اور افطاری میں بدستور لوڈشیڈنگ جاری شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 15 سے 17 گھنٹے سے بھی تجاوز کر جانے کے باعث کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، کئی روزہ دار بے ہوش، شہریوں نے احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں کامونکے، سادھوکے میں بھی لوڈشیڈنگ جاری گذشتہ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک مسلسل بندش نے روزہ داروں کو نڈھال کئے رکھا پاک ٹاؤن کے علاقہ میں ایک روزہ دار معمر خاتون صفیہ بی بی برقی گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہوگئی۔چک امرو میں نور کوٹ میں بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں کا احتجاج‘ خواتین کی سینہ کوبی‘ دانیال عزیز کے حلقہ میں سحر و افطار میں بجلی مسلسل غائب‘ روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ قصبہ نور کوٹ میں شہریوں نے شدید احتجاج کرتے حکومت اور گیپکو شکر گڑھ کو بددعائیں دی ہیں۔ شکر گڑھ میں بھی شہریوں نے احتجاج کیا۔ وہاڑی میں رہی سہی کسر واپڈا حکام نے ماہ رمضان کے اوقات سحری‘ افطاری اور تراویح میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کرکے نکال دی ۔ بھلوال کے نواحی چکوک میں بجلی کی آنکھ مچولی سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ نمائندہ نوائے وقت کے مطابق حافظ آباد میں بجلی کی بیس بیس گھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے پاور لومز انڈسٹری سمیت تمام کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ساہیوال میں بھی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے ٹوئیٹ میں کہا کہ جون 2012ء میں بجلی کی اوسط شارٹ فال 5831 میگاواٹ تھا جون 2016ء میں بجلی کا شارٹ فال کم ہو کر 3218 میگاواٹ رہ گیا جون 2012ء میں بجلی کی اوسط پیداوار 11240 میگاواٹ تھی جبکہ جون 2016ء میں بجلی کی اوسط پیداوار 16270 میگاواٹ ہے جون 2013ء میں بجلی کا اوسط شارٹ فال 7938 میگاواٹ تھا جون 2013ء میں بجلی کی پیداوار کے تناسب سے شارٹ فال 67 فیصد تھا جون 2012ء میں بجلی کی پیداوار کے تناسب سے شارٹ فال 52 فیصد تھا جون 2016ء میں بجلی کی پیداوار کے تناسب سے شارٹ فال صرف 20 فیصد ہے، یہ ہے حقیقی تبدیلی کھوکھلے نعرے نہیں ہم وعدہ پورا کریں گے۔ 2018 تک روشن پاکستان دیں گے۔