کنٹرول لائن کی خلاف ورزی پر مذہبی جماعتوں نے یوم احتجاج منایا، بھارتی پرچم نذرآتش

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام (س)، ملی مجلس شرعی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان سمیت ملک بھر کی دینی و سماجی اور سیاسی جماعتوں کی اپیل پر جمعہ کو لائن آف کنٹرول کی خلاف وزری اور اس کے نتیجہ میں شہادتوں کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقع پر سیمینارز ریلیاں اور مذمتی قراردادیں بھی منظور کی گئیں، بھارتی پرچم نذر آتش کیا گیا، اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت اور دوستی کا دم بھرنے والوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے، ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے جس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع خالی نہیں جانے دیا۔ حکومت پاکستان ورکنگ بائونڈری پر روایتی اور رسمی احتجاج کا سلسلہ بند کرکے بھارتی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے ملک بدر کرنے کی وارننگ دے اور عالمی سطح پر ہندوستان کا اصل چہرہ پیش کیا جائے۔ جمعیت علماء اسلام (س) کی طرف سے ماڈل ٹاؤن میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے نائب امیر مولانا عبدالرب امجدنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بیرونی قوتوں کی شہ پر کنٹرول لائن پر بار بار جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کا سختی سے نوٹس لے۔ اس موقع پر پیر یوسف بخاری، مولانا ایوب ندیم، مولانا عبدروف ربانی، قاری واحد بخش مولانا عبدالرحمن اویسی اور مفتی خالد اظہر نے بھی خطاب کیا۔ جے یو پی نورانی کے سیکرٹری جنرل ورکن پنجاب اسمبلی سید محفوظ مشہدی اور سردار محمدخان لغاری سمیت دیگر نے بھارت کی جانب سے ورکنگ بائونڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزی، قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ قرار دیا۔ جماعت اہلسنت پاکستان کے مفتی ظفر جبار چشتی نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی حافظ عبدالکریم نے کہا کہ بھارت منظم سازشوں ومنصوبہ بندی کے تحت سرحدوں پر جنگ کا ماحول پیدا کر رہا ہے۔ مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ پیرسید عرفان مشہدی، قاضی عبدالغفار قادری سمیت دیگر نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر‘ کنٹرول لائن پر جارحیت اور دیگر امور پر بھارت و امریکہ کے کسی دبائو میں نہیں آنا چاہئے۔