پنجاب کا واحد چلڈرن ہسپتال مسائل کی آماجگاہ بن گیا، کئی مشینیں خراب، مریض پریشان

لاہور (ندیم بسرا) محکمہ صحت پنجاب کی عدم توجہ اور ترقیاتی کاموں کے نہ ہونے سے پنجاب کا واحد چلڈرن ہسپتال مسائل کی آماجگاہ بن گیا۔ مریض پریشان ہو گئے اور ایمرجنسی، ان ڈور اور آئوٹ ڈور میں خوار ہونے لگے۔ سرجنز نے ہسپتال میںبچو ں کے دل کی سرجری کرنے کی بجائے پرائیوٹ ہسپتالوں میںکرنے کو ترجیح دینے لگے جس سے بچوںکی دل کی سرجری کے لئے ہسپتال میںدو برس کا وقت دیا جانے لگا۔ تمام ملٹی نیشنل اور نیشنل کمپنیوں کی ادویات ملنے کی بجائے ہسپتال میں دو سے تین کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ ایم آر آئی، سی ٹی سکین، فلو سائیٹو میٹری، اینڈو سکوپی، ڈائلسز، الٹرا سائونڈ اور وینٹی لیٹرز کی مشینیں اکثر خراب رہنے لگی۔ ایمرجنسی میں ڈائریا، ملیریا اور نمونیے سے مرنے والے بچوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ اس صورتحال پر میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر احسن راٹھور نے نوائے وقت کو بتایا کہ ہسپتال میں 100 فیصد فری ادویات دی جاتی ہے پورے پاکستان میں بچوں کے علاج کا اتنا بڑا بوجھ اکیلے چلڈرن ہسپتال نے اٹھایا ہے، سالانہ ان ڈور، ایمرجنسی اور آئوٹ ڈور میں 10 سے11 لاکھ مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں 43 مختلف بیماریوں کے علاج کی سہولت موجود ہے۔ یہ واحد ہسپتال ہے جہاں تھیلسیمیا سنٹر، دمہ سنٹر، ڈائبیٹک سنٹر(شوگر)، ٹی بی سنٹر، پخانے کی نالی والا سنٹر، قد بڑھانے والا سنٹر سمیت دیگر سنٹرز موجود ہیں۔ 18کروڑ روپے سے ایم آر آئی مشین لگادی گئی ہے، نئی سی ٹی سکین کی منظوری مل گئی ہے اس کے ساتھ ہمارا جنرل ہسپتال سے بھی سی ٹی سکین کا خصوصی معاہدہ ہے۔ ہسپتال میں ایک اور نئی بلڈنگ بن گئی ہے جس کو دسمبر 2104 تک فعال کر دیا جائے گا۔ ہسپتال میں مزید600 بیڈز کا اضافہ ہو جائے گا۔ اس میں 16نئے آپریشن تھیٹرز بھی ہونگے جس میں 6 کارڈیک سرجری یونٹ ہونگے۔ نئے تھیٹرز بننے سے آپریشن کی تعداد 24 سو سالانہ ہو جائے گی اب ہم سالانہ 8 سو آپریشن کر رہے ہیں۔ ٹیسٹ کے اگر پیسے لئے جاتے ہیں تو ان کی قیمت انتہائی معمولی ہوتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں روزانہ5 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہسپتال سروے کے مطابق لاہور شہر میں قائم پنجاب کا 684 بیڈز کا واحد چلڈرن ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی کامنہ چڑھانے لگا۔ ہسپتال کی ایمرجنسی میں ملیریا، ڈائریا، نمونیے اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں میں اضافہ ہونے سے ان کاعلاج کم ہو گیا جس سے ان کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔ ان ڈور میں داخل مریضوں سے تمام ٹیسٹ کے پیسے لئے جانے لگے۔ ٹیسٹ فیسوں کے چارجز 50 روپے سے 5 ہزار روپے تک پہنچ گئے۔ دل کی سرجری کے لئے تین پروفیسرز موجود ہیں جن میں سے ایک پروفیسر ہی آپریشن کرتا ہے تمام پروفیسر دل کی الٹی نالیوں کے لئے ٹی جی اے (TGA) جیسے آپریشن ہسپتال کے بالکل سامنے پرائیویٹ ہسپتال میں کرنے کو ترجیح دینے لگے جبکہ ہسپتال میں مفت علاج کرنے سے انکار کرنے لگے۔ جس سے دل کی سرجری کیلئے مریضوں کو 2 برس کا لمبا وقت دیا جانے لگا۔ سالانہ سینکڑوں بچے انتظار کی سولی پر لٹک کر دنیائے فانی سے کوچ کرنے لگے۔ مختلف شعبوں میں ڈاکٹرز کی کمی کو پوری کرنے کے لئے میڈیسن کے ڈاکٹرز سے کام لیا جانے لگا۔ بے ہوشی کے ڈاکٹرز کی کمی سے آپرشن کئی کئی ما ہ تاخیر سے ہونے لگے۔ سرجری کے شعبے میں 120 ڈاکٹرز کی کمی نے ہسپتال کے مسائل بڑھا دئے جبکہ آپریشن میں تاخیر ہونے سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ سی ٹی سکین مشین کی عمر پوری ہو گئی جس کے بعد اب کوئی بھی سی ٹی سکین مشین نہیں ہے، کینسر کی تشخیص کے لئے فلو سائیٹومیٹری مشین کے ٹیسٹ کے لئے اہل ڈاکٹرز موجود نہیں۔ ایم آر آئی دو برس سے خراب رہی جس کو ٹھیک نہیں کرایا گیا۔ فارمیسی پر تمام ملٹی نیشنل یا نیشنل کمپنیوں کی ادویات دستیاب نہیں ہے۔ مینٹی نینس اینڈ ری پیئر کا شعبہ لاکھوں روپے کے بوگس بل منظور کروانے میں مصروف عمل ہے۔