پنجاب اسمبلی: حلقہ بندی ، ووٹر لسٹوں کی تیاری کا اختیار الیکشن کمشن کو دینے سمیت4 بل منظور

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل2014ء اوورسیز پاکستانی کمشن پنجاب 2014ء اور گوداموں کی رجسٹریشن، مویشی مارکیٹوں کی رجسٹریشن کے چار بل اکثریت رائے سے منظور کر لئے۔ اپوزیشن کی تمام ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2014ء کے تحت بلدیاتی حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تیاری کا اختیارالیکشن کمشن کو تفویض کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایوان نے مسودہ قانون اوورسیز پاکستانی کمشن پنجاب اور مسودہ قانون گوداموں کی رجسٹریشن پنجاب بھی منظور کرلئے جن میں اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات کو کم کرنے سے متعلق اقدامات کے علاوہ صوبہ بھر میں گوداموں کی رجسٹریشن شامل ہے جبکہ مویشیوں کی مارکیٹوں کی رجسٹریشن بھی لازم قرار دے دی گئی ہے۔ بل کے مطابق آئندہ کوئی بھی مویشی مارکیٹ بغیر رجسٹریشن کے قائم نہیں کی جاسکے گی جبکہ گوداموں و کولڈ سٹوریج کی رجسٹریشن کا مقصد ذخیرہ اندوزی کو روکنا ہے۔ بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن کے چند ارکان ایوان میں موجود تھے۔ صوبائی وزیر قانون میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے موقف اختیار کیا کہ بلوں کی منظوری سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو مطمئن کیا گیا ہے۔پنجاب آرمز کے حوالے سے ترمیمی بل2014ء ایوان میں پیش کرنے کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ لوکل گورنمنٹ کے حوالے 2آرڈننس مسودہ قانون (ترمیمی) مقامی حکومت پنجاب2014ء تھے جن کی مدت 3 ستمبر مدت ختم ہو گئی تھی اور انہیں 4 ستمبر سے منظور کیا گیا۔ وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر اوقاف عطا مانیکا نے کہا ہے کہ محکمہ اوقاف کو کسی حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا جس کی وجہ سے یہ محکمہ اب اپنے ہی بوجھ تلے دب رہا ہے، محکمے کی86 فیصد آمدن سٹیبلشمنٹ پر خرچ ہو جاتی ہے باقی14فیصد سے کہاں کہاں تعمیر و مرمت کرائیں لہذا حکومت کو تجویز دے رہے ہیں کہ جن مساجد اور مزارات کی آمدن انکے اخراجات سے کم ہے وہاں کی مساجد کا کنٹرول محلہ کمیٹیوں ور مزارات وارثین یا مریدین کمیٹیوں کے سپرد کر دیا جائے۔ موجودہ آرڈیننس کے تحت ہمیں اوقاف کی مساجد اور مزارات واپس کرنے کا اختیار حاصل نہیں اس لئے محکمہ قانون سے رجوع کر رہے ہیں۔ محکمہ کی زمینیں اور دکانیں ایک سالہ پٹے پر بذریعہ نیلامی دی جاتی ہیں جس میں سالانہ دس فیصد تک اضافے کیساتھ تین برس تک توسیع کی جا سکتی ہے۔ اوقاف کی اراضی پر قبضے چھڑانا مشکل ہو چکا ہے، جن مزارات سے آمدن ہوتی ہے صرف وہیں مرمت کرا سکتے ہیں۔ موجودہ اجلاس میں پہلے روز آنے والے جماعت اسلامی کے رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر غیر پارلیمانی گفتگو کرتے رہے جس پر سپیکر نے انہیں ڈانٹا اور الفاظ کارروائی سے حذف کرا دیئے۔ ڈاکٹروسیم اختر نے بار بار کہا موجودہ حکومتی ارکان پنجاب اسمبلی ایک دکھلاوہ ہیں اوران کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ ’’جمہوری تماشا‘‘ لگا ہوا ہے۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ یہ حکومتی ممبران ’’صمْْ ُ‘بکم ُ‘ْ ہیں۔ جس پر رکن اسمبلی سید محفوظ مشہدی نے کہا ڈاکٹر وسیم اختر نے ہم پر ممبران پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے انہوں نے قرآن کی جو آیت ہماری طرف اشارہ کرکے پڑھی ہے وہ کفار کے لئے ہے۔ اجلاس میں پہلی مرتبہ کورم کی نشاندہی ق لیگ کے رکن اسمبلی چودھری عامر سلطان چیمہ نے کی۔ دو صوبائی وزیر آصف سعید منہیس اور ڈاکٹر فرخ جاوید قانون سازی کے دوران ایوان کی کارروائی سے بے نیاز موبائل فون سے کھیلتے رہے۔ اسمبلی کاکیمرہ بار بار انہیں اپنی سکرین پر بھی دکھاتا رہا۔