محکمہ لائیو سٹاک میں وسیع پیمانے پر ملازمین کی اکھاڑ پچھاڑ کارکردگی صفر ہو گئی

محکمہ لائیو سٹاک میں وسیع پیمانے پر ملازمین کی اکھاڑ پچھاڑ کارکردگی صفر ہو گئی

 لاہور (چودھری اشرف) محکمہ لائیو سٹاک کی اعلیٰ بیوروکریسی نے ماتحت کام کرنے والے ملازمین کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ ذرائع نے بتایا لائیو سٹاک کہ محکمہ لائیو سٹاک میں تعینات ہونے والی اعلیٰ بیورو کریسی نے وسیع پمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر کے محکمہ کی کارکردگی کو صفر تک پہنچا دیا ہے۔ محکمہ ترقیاتی منصوبہ پر کوئی کام نہیں ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ محکمہ کے اغراض ومقاصد سے لاعلم بیورو کریٹس نے ہر شعبہ کے ملازم کو اس کے مخالف شعبہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ محکمہ لائیو سٹاک کے فارمز کا تجربہ رکھنے والے افراد کو ویٹرنری ریسرچ انسٹیٹیوٹ جہاں مختلف قسم کی ویکسین تیار ہوتی ہے میں تبدیل کر دیا ہے جو متعلقہ شعبہ سے بالکل واقف نہیں ہوتا اسی طرح پولٹری کے شعبہ میں کام کرنے والے ملازمین کا تبادلہ اینمل ہیلتھ میں کر دیا گیا ہے۔ اکثر ملازمین نے ”نوائے وقت“ کو شکایت کر کے یہ بھی بتایا کہ تمام سرکاری محکمے صبح 8 بجے شروع ہو کر شام 4 بجے بند ہو جاتے ہیں تاہم محکمہ لائیو سٹاک میں رات گئے تک دفتر کھلے رہتے ہیں جس سے محکمہ کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے سوالیہ نشان بننا شروع ہو گئی ہے۔ محکمہ کے ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ محکمہ کے سیکرٹری نے تمام ڈائریکٹرز کے اختیارات بھی خود سنبھال لیے ہیں کسی ڈائریکٹر کو ایک چپڑاسی کے تبادلے کا اختیار نہیں ہے۔ محکمہ کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے جہاں تک تبادلوں کی بات ہے تو عرصہ دراز تک ایک ہی سیٹ پر رہنے والے افراد کو قانون کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔