مجید نظامی صحافت کا جھومر، پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن تھے: مقررین

لاہور (سپیشل رپورٹر) مجید نظامی پاکستانی صحافت کا جھومر تھے وہ پاکستان کے سب سے بڑے ایڈیٹر تھے وہ نظریہ پاکستان کے تحفظ کی وجہ سے پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ احکومت پنجاب یورنیورسٹی میں مجید نظامی چیر بھی قائم کرے۔ یہ باتیں نوائے وقت گروپ کے مدیر اعلی مجید نظامی آبروئے صحافت اور محافظ نظریہ پاکستان کے عنوان سے منعقد کر دہ تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے خطاب کر تے ہوئے کہیں جس کا اہتمام پنجاب نیوز پیپرز اینڈ پرائیڈیکل ایسو سی ایشن نے کیا تھا۔ زعیم قادری نے کہا کہ مجید نظامی کی ذات مجاہد نظریہ پاکستان کی وجہ سے لوگوں میں مقبول تھی۔ اجمل نیازی نے کہا مجید نظامی بڑے بہادر انسان تھے ان سے بہادر صحافی آج تک پیدا نہیں ہوا ہے وہ ساری زندگی جابر سلطانوں کے سامنے کلمہ حق ادا کرتے رہے۔ شاہد رشید نے کہا کہ نظریہ پاکستان کے متلق مجید نظامی کہا کر تے تھے وہ میرا پہلا پیار ہے وہ بہت بڑے انسان تھے اسلئے ان کے افکار پر کام کرنے کے لئے ادارے کی ضرورت ہے۔ بشری رحمن نے کہا کہ مجھے اب بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ مجید نظامی آج بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں موجود ہیں۔ ملک غلام ربانی نے خطاب کر تے ہوئے کہا مجید نظامی سچ بولتے سچ لکھتے تھے۔ صغری صدف نے کہا کہ مجید نظامی ایک عام شخص نہیں تھے وہ نظریہ تھے۔ ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد نے کہا کہ مجید نظامی کی باتیں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ حسین شاد نے کہا کہ ہر ملک میں زمین کو خوبصورت بنانے کے لئے صرف چند لوگ ہوتے ہیں ان میں مجید نظامی بھی تھے۔ کالم نگار اختر شمار نے کہا کہ مجید نظامی پاکستانی صحافت کے ماتھے کا جھومر تھے ۔