قادری کا دھرنا ختم کرنا خوش آئند ہے، حکومت عمران کو مذاکرات کی دعوت دے: سراج الحق

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ جب تک عام آدمی کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع نہیں دئیے جائیں گے، بے چینی، مایوسی، افراتفری کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا،  اجتماعی عدل کا نظام ہی ملک کو ایک فلاحی ریاست بنا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کا اجتماع عام پاکستان کو اسلامی اور خوشحال مملکت بنانے کی طرف سنگ میل ثابت ہوگا، جماعت اسلامی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ غلبہ اسلام کی عالمگیر تحریک ہے۔ ہم انسانیت کی بھلائی کے لئے دنیا میں خلافت راشدہ ؓ کا نظام لانا چاہتے ہیں۔ ہم ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں غریب کے بچے کو بھی وہی سہولتیں میسر ہوں جو کسی صدر اور وزیراعظم کے بیٹے کو حاصل ہوتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی تصنیف ’’خطبات‘‘ کا ایک لاکھواں نسخہ خریدنے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے کہاکہ پاکستان چاروں اطراف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے لیکن سب سے بڑا خطرہ وہ متعصب اور کرپٹ اشرافیہ ہے جس نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اوباما کی ڈکٹیشن پر ناچنے والا کرپٹ اشرافیہ کا طبقہ ملک و ملت کے لئے سوہان روح بن چکا۔ اسلام دشمن قوتیں مسالک اور قومی عصبیتوں کا شکار کر کے ہماری قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرپٹ اشرافیہ توبہ کر لے ان کے دن اب گنے جاچکے ہیں۔ غریب آدمی کا کام ٹیکس اور بجلی کا بل دینا رہ گیا ہے وہ ووٹ دینے کے بعد پانچ سال تک روتا رہتا ہے۔ سراج الحق نے کہاکہ محرم کے مہینے میں تمام مکتبہ فکر کے علمائے کرام اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو سیاسی و پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر قوم کو باہمی اخوت اور اتحاد کو فروغ دینے کی بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ حضرت امام حسین ؓ کسی ایک فرقے یا مسلک کے نہیں تمام مسلمانوں کے محبوب اور امام ہیں۔ ان کی تعلیمات پر سب کو عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے کی مذمت کی اور ان کی خیریت دریافت کی ہے۔ یہ حملہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ عالمی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کے جغرافیہ کو تبدیل کر دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ طاہر القادری کی طرف سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان خوش آئند ہے، عمران خان کے معاملے میں بھی حکومت کو بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں مذاکرات کی دعوت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ دھرنا اگر سو دن بھی مزید رہتا ہے تب بھی مذاکرات ہی کے ذریعے معاملات طے کرنا پڑیں گے۔