سزائے موت پر عملدرآمد نہ ہونے سے جرائم میں کئی گنا اضافہ‘ ناقص سیکورٹی کے سبب عدالتوں میں قتل جیسے جرائم بڑھنے کا خدشہ

سزائے موت پر عملدرآمد نہ ہونے سے جرائم میں کئی گنا اضافہ‘ ناقص سیکورٹی کے سبب عدالتوں میں قتل جیسے جرائم بڑھنے کا خدشہ

لاہور (شہزاد خالد) سزائے موت پر عملدرآمد نہ ہونے سے قتل وغارت میں اضافہ ہو گیا۔ عدالتوں کی ناقص سکیورٹی کے باعث عدالتوں کے اندر قتل جیسے گھناﺅنے جرائم کے خدشات بڑھ گئے۔ رواں سال کے دوران 1581 افراد کو قتل کیا گیا۔ 1351 افراد قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے اور معذوری کی حالت کو پہنچ گئے۔ ستمبر 2014 ءمیں 109 افراد کو قتل کیا گیا۔ 2013ءمیں 1480 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ گذشتہ برس لاہور اور ننکانہ میں کمرہ عدالت میں تاریخ پیشی پر آئے 3 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا قانون ختم کرنے کا مطلب قاتلوں کو کھلی چھٹی دینا ہے۔ سزائے موت ختم کرنے سے مجرموں کو فری ہینڈ مل جائے گا۔ سزائے موت ختم کرنے کی باتیں ملک میں انتشار پھیلانے والی خفیہ قوتوں کے دباﺅ پر کی جا رہی ہیں۔ طارق عزیز نے کہا کہ سزائے موت ختم کرنے سے جرائم پیشہ افراد کو کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا۔ معاشرے کا امن تباہ ہو جائے گا۔ معروف قانون دان، سابق وزیر مشتاق اعوان نے کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے جرائم میں کمی آتی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل چودھری ولایت نے کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد معطل یا اس میں تاخیر نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان بار کے وائس چیئرمین رمضان چودھری، مدثر چودھری ایڈووکیٹ، عارف ملہی ایڈووکیٹ، ندیم بٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے کہا کہ جب اللہ کے حکم کا معاملہ آ جاتا ہے تو اس کے بعد کوئی بھی جواز باقی نہیں رہتا ہے سزائے موت اللہ کا حکم ہے۔