داعش اور تحریک طالبان میں تعلقات کے ٹھوس شواہد موجود نہیں: سکیورٹی ذرائع

لاہور (جواد آر اعوان/ نیشن رپورٹ) مشرق وسطیٰ کے عسکری گروپ داعش (دولت اسلامیہ) کے پاکستان میں جڑیں مضبوط ہونے اور اس گروپ اور تحریک طالبان کے ایک گروپ کے درمیان گٹھ جوڑ کی خبریں عالمی میڈیا کی جانب سے آ رہی ہیں تاہم پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ملک میں داعش کی سرگرمیوں کے بڑھنے اور اس گروپ کے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ تعلق کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ خفیہ ذرائع نے تحریک طالبان کے ترجمان شاہداللہ کی جانب سے ابوبکر البغدادی کی بیعت کے اقدام کو شہرت حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاہداللہ شاہد کے پاکستانی سرزمین پر کارروائیوں کا دور ختم ہو چکا ہے اور وہ مبینہ طور پر افغانستان جا چکا ہے۔ اس حوالے سے تحریک طالبان کی جانب سے چلائی جانے والی ایک ویب سائٹ پر شاہداللہ کے اس حوالے سے بیان کو بھی اتار دیا گیا ہے۔ اسی طرح کراچی میں داعش کی وال چاکنگ کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھی عوام پر یہ تاثر دینے کی کوشش تھی کہ تباہ حال دہشت گرد گروپ دوبارہ خطرہ  بن سکتا ہے۔ داعش کے پاکستان میں قائم ہونے کی مستند اطلاعات نہیں ملیں۔ تحریک طالبان کے کسی سلیپر سیل کا نجی طور پر داعش سے رابطہ ہو سکتا ہے تاہم ذرائع نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ داعش پاکستان میں القاعدہ کی جگہ لے سکتا ہے۔