گنگا رام ہسپتال کے خسرہ وارڈ میں آتشزدگی‘ بھگدڑ‘ بچوں اور ماﺅں کی چیخ و پکار

گنگا رام ہسپتال کے خسرہ وارڈ میں آتشزدگی‘ بھگدڑ‘ بچوں اور ماﺅں کی چیخ و پکار

لاہور (نیوز رپورٹر) گنگارام ہسپتال انتظامیہ کی عدم توجہ اور لواحقین کی بار بار نشاندہی کے باوجود خسرہ وارڈ کی الیکٹریکل مشینری کو درست نہ کیا گیا جس کے باعث گذشتہ روز سر گنگا رام ہسپتال کے خسرہ وارڈ میں آگ لگ گئی جس کے بعد ہسپتال کے اس وارڈ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی، بچے اور مائیں چیخ و پکار کرتے رہے، مریض اپنی مدد آپ وارڈ سے باہر آتے رہے۔ مائیں اپنے معصوم بچوں کو گود میں اٹھا کر ادھر ادھر بھاگتی رہیں۔ خسرہ وارڈ کو مکمل بند کر دیا گیا۔ انتظامیہ کے ڈاکٹرز جس میں اے ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر عاصم حمید سمیت دیگر بھی شامل تھے، 20 منٹ کی تاخیر سے آئے۔ آگ لگنے سے ایک لاکھ روپے کا سامان خاکستر ہوگیا جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز شام پانچ بجکر 35 منٹ پر شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی اورآگ اے سی کی تار سرکٹ کے باعث لگی۔ آگ نے قریب لگی لکڑی کی الماری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے اندر ایک لاکھ روپے کے قریب موجود طبی آلات جل کر خاکستر ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ اے سی بھی جل گیا۔ آگ کی خبر ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں وقت پر پہنچ گئیں مگر ہسپتال کا عملہ تاخیر سے پہنچا جنہوں آدھے گھنٹے کی تگ و دو کے بعد آگ پر قابو پا لیا جبکہ سر گنگا رام ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ریسکیو کی ٹیمیں آنے سے قبل ہمارا عملہ آگ بجھانے میں مصروف تھا شکر ہے وقت پر پتہ چل گیا جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ خسرہ وارڈ میں زیر علاج 12 بچوں کو ایمرجنسی بلاک میں علیحدہ وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمن نے واقعے کی تحقیق کیلئے ڈی ایم ایس ڈاکٹر آصف کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں ایس ڈی او زوہیب، رفیق، سجاد بھی شامل ہے۔ کمیٹی 24 گھنٹے میں اپنی رپورٹ ایم ایس کو پیش کریگی۔