ڈرون حملوں کو قانونی قرار دینے سے امریکی عزائم بے نقاب ہو گئے: حافظ سعید

لاہور (سٹاف رپورٹر) امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان میں قتل و غارت گری اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے اسلامی شریعت کا قیام ممکن نہیں۔ ظلم اور قتل سے کبھی اصلاح نہیں ہوتی۔ اس سے نفرتیں پروان چڑھتی ہیں‘ مسلمانوں کی وحدت پارہ پارہ ہوتی ہے اور اسلام دشمن قوتوں کو بھی فائدے اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی و خودمختاری پر حملہ ہیں‘ انہیں قانونی قرار دینے سے امریکی عزائم ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران ہزاروں افراد کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کسی خطہ میں اسلام کی دعوت پھیلتی ہے تو اسلام دشمن قوتیں اس کو اپنے لئے سب سے بڑا چیلنج سمجھتی ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کو بھی آج اسی وجہ سے بڑے خطرات درپیش ہیں۔ کفار کی دشمنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ وہ یہاں سے اٹھنے والی حق کی ہر آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ مغربی میڈیا بھی اس حوالہ سے بے بنیاد اور مذموم پراپیگنڈہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ اسلام پسندوں کو بدنام کرنے کیلئے ان کےخلاف دہشت گردی کا جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرتیں پیدا کی جا سکیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دشمنان اسلام کی سازشیں ناکام بنانے کیلئے اتحاد و یکجہتی کا راستہ اختیار کریں۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ جو لوگ پاکستان میں تشدد کا راستہ اختیار کر کے سمجھتے ہیں کہ وہ یہاں اسلامی شریعت کے نفاذ میںکامیاب ہو جائیں گے تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ انبیاءکرام، خلفاءراشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا طریقہ نہیں ہے۔ اصلاح کیلئے تشدد کی بجائے دعوت کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اوباما کہتا ہے ہمیں خطرہ ہے کہ پاکستان میں نوجوان نسل دین اسلام کی طرف پلٹ رہی ہے اور وہ ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ یہ سوچ بہت خطرناک ہے‘ اس لئے امریکہ کی سب سے بڑی ترجیح پاکستان میں ایسے سکول قائم کرنا ہے جو بچوں کومغربی نظاموں کے مطابق تعلیم دیں۔ وہ بھاری بجٹ خرچ کر کے تعلیمی اداروں میں ایسا نصاب تعلیم مسلط کرنا چاہتے ہیں کہ بچوں کے ذہنوں سے اسلامی تعلیمات کو نکال دیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران ماضی میںکی جانے والی غلطیوں سے نصیحت حاصل کریں، امریکہ کی بجائے اللہ کو راضی کرنے اور پاکستان میں قرآن و سنت کے نفاذ کی کوششیں کریں۔ اس سے دشمنان اسلام کی سب سازشیں ناکام ہوں گی اور کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط قوت اور امن و امان کا گہوارہ بن کر ابھرے گا۔