نگران حکومت کو الیکشن کمشن اور سپریم کورٹ کے احکامات کیخلاف تقرر و تبادلوں کا اختیار نہیں: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ نگران حکومت کو الیکشن کمشن اور سپریم کورٹ کے احکامات کیخلاف تقرریاں اور تبادلے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اُن کی بنیادی ذمہ داری صاف اور شفاف الیکشن کروانا ہے۔ مسٹر جسٹس مامون رشید نے یہ ریمارکس نگران حکومت کی طرف سے وزارتِ صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارہ (فرنیچر) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل شمیم کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف دائر رٹ درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔ فاضل عدالت نے درخواست گذار کو عہدے سے ہٹانے کا حکم معطل کر دیا جبکہ 24 مئی کو ہونے والی بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ کیخلاف حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت دیگر مدعا علیہان سے 29 مئی تک جواب طلب کر لیا۔ درخواست گذار کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ فیصل شمیم کو 10 اپریل 2012ءکو ان کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ نگران وفاقی وزیر صنعت و پیداوار شہزادہ احسن اشرف شیخ کے حکم پر ان کو نکالا گیا۔ انہوں نے اپنی مرضی کے ڈائریکٹرز تعینات کر کے بورڈ کے آئندہ اجلاس میں 671 ملین کے مختلف منصوبوں کی منظوری دینا تھی الیکشن کمشن نے 22 جنوری کے بعد ٹرانسفر پوسٹنگ پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور سپریم کورٹ نے خواجہ محمد آصف کی آئینی درخواست پر نگران حکومت کی طرف سے تعیناتیاں ٹرانسفرز پر حکم امتناعی جاری کر دیا۔