نئی حکومت کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنا چاہئے لیکن فوری نہیں: سرتاج عزیز

لاہور (رائٹرز) نامزد وزیراعظم نوازشریف کے متوقع چیف ایڈوائزر برائے اقتصادی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ نئی حکومت کا آئی ایم ایف سے نئے قرضے کے حصول کےلئے فوری طور پر رجوع کرنا سودمند نہیں ہو گا۔ نئی حکومت کو پہلے اقتصادی صورتحال بہتر بنانے اور دو تین ماہ میں توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئں جن کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آئی ایم ایف سے کن شرائط پر بیل آﺅٹ پیکیج کیلئے رجوع کیا جائے۔ ایک انٹرویو میں سرتاج عزیز نے کہا کہ اس وقت آئی ایم ایف سے کوئی ڈیل کرنا اپنی شکست کے مترادف ہو گا۔ فی الوقت ہم آئی ایف کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچ بھی نہیں سکتے کیونکہ آئی ایم ایف جس نوعیت کی شرائط ہم پر لاگو کریگا ان کے نتیجے میں ہماری معیشت ہر گز ترقی نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم دو تین ماہ میں اپنی اقتصادی بحالی کے پیکیج پر عملدرآمد شروع کر دیتے ہیں اور یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں اور ریونیو میں اضافہ ہو رہا ہے تو پھر موجودہ صورتحال کے مقابلے میں ہمیں خاصی کم امداد کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان کو قرضہ فراہم کرنے والے ایشیائی ترقیاتی بنک کا اندازہ ہے کہ پاکستان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے 6 سے 9 ارب ڈالر تک کی ضرورت ہو گی۔ اس کیس میں آئی ایم ایف سے لیا گیا 5 ارب ڈالر کا قرضہ بھی شامل ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ نئی کابینہ اپنے پہلے سو دنوں میں بجلی گیس کی قلت اور مالیاتی مشکلات سے نکلنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرےگی۔ انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں بہتر انتظامیہ لائی جائیگی۔ ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اس کے ڈیٹا بیس کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا۔ اس سوال پر کہ نئی حکومت پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کیا اقدامات کریگی جو سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ضروری ہے۔ سرتاج عزیز نے تسلیم کیا کہ اس کا کوئی بلیو پرنٹ تیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ سکیورٹی اور خارجہ پالیسی مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں نہیں۔ اقتصادی معاملات ہمارے کنرول میں ہیں۔