نئی حکومت ایران گیس منصوبے پر امریکی دباو مسترد کر دے: منور حسن

لاہور (سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ نومنتخب حکومت امریکہ سمیت کسی بھی بیرونی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرے اور چین کو گوادر پورٹ حوالے کرنے پر امریکہ اور بھارت کی چیں بچیں پر کان نہ دھرا جائے۔ نوازشریف طالبان سے مذاکرات کیلئے سنجیدگی سے کوشش کریں، اگر ان کی طرف سے کوئی شرائط ہوں تو وہ بھی سامنے آنی چاہئےں، میرا خیال ہے کہ فوج اس معاملے میں مخالفت نہیں کریگی البتہ امریکہ کے پیٹ میں اٹھنے والے مروڑ کی پرواہ نہ کی جائے اور معاملات کو صحیح رخ پر لے کر چلا جائے تو امریکہ اور بھارت کی ہمارے اندرونی معاملات میں بڑھتی ہوئی بے جا مداخلت خودبخود دم توڑ جائے گی۔ بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمے، قیام امن، ملکی استحکام اور قومی خودمختاری کیلئے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کا نئے سرے سے جائزہ لینا اور اسے بیرونی دباﺅ سے نکالنا ہو گا۔ افغان مسلمانوں کے خلاف امریکی حمایت پر ناراض ہونے والے طالبان، پاکستانی، مسلمان اور ہمارے بھائی ہیں جب ہم مل بیٹھ کر انہیں سمجھائیں گے تو وہ انکار نہیں کریں گے۔ ہم نومنتخب حکومت کیلئے دعاگو ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ وہ قوم سے کئے گئے وعدے پورے کرے اور عوام کی امیدوں پر پورا اترے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید منور حسن نے کہا کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے کو امریکی دباﺅ پر معطل کرنا کسی صورت بھی قومی مفاد میں نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف پر قوم نے جہاں بھرپور اعتماد کا اظہار کےا ہے وہیں ان سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں جن میں سرفہرست مشرف کی غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے عالمی برادری میں پاکستان کے کھوئے ہوئے وقار اور قومی تشخص کو بحال کرنے کیلئے امریکی غلامی کا طوق ہمیشہ کیلئے اپنے گلے سے اتار پھینکنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوازشریف قوم کو مایوس نہیں کریں گے اور ملک کی خودمختاری کے لئے امریکہ سمیت عالمی دباﺅ کے سامنے ڈٹ جائیں گے۔ سید منور حسن نے کہا کہ ملک میں بجلی کا بحران انتہائی گھمبیر صورت اختیار کر گیا ہے۔ فیکٹریاں اور کارخانے بند پڑے ہیں، پورا کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور لاکھوں محنت کش اور مزدور بے روز گاری کی چکی میں پس رہے ہیں ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے۔ نئی حکومت کو عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کیلئے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہونگے۔