طالبان سے غیر مشروط مذاکرات کئے جائیں: مذہبی جماعتیں، پہلے اسلحہ رکھنا ہو گا: اسلم گھمن

لاہور (سٹاف رپورٹر+ خبرنگار) مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے طالبان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ کر دیا جبکہ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن نے کہا ہے کہ مذاکرات سے پہلے طالبان کو ہتھیار پھینکنے چاہئیں۔ مولاناعبدالغفور حیدری، مولانا امیر حمزہ اور ابوخیر زبیر نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ طالبان سے مذاکرات کر سکتا ہے تو پاکستان عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیوں نہیں کر سکتا، مذاکرات سے پہلے کسی طرح کی کوئی شرط رکھنا مناسب نہیں۔ مذاکرات میں ہی تمام مسائل کا حل موجود ہے، اختلافات کی وجہ سے پہلے پاکستان میں بہت حملے ہوئے ہیں، مسجدوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اب مذاکرات ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ملک کے حالات بدل بہتر ہو سکتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر اسلم گھمن نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں مگر مذاکرات سے پہلے انہیں اسلحہ رکھنا ہو گا۔ اگر ہم نے اس مرحلے پر کمزور دکھائی تو اپنا نقصان کرینگے۔ پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا تقاضہ ہے کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے پہلے ہتھیار پھینکیں اور پھر مذاکرات کی میز پر آئیں۔