بھارت کیساتھ امن کی آشا نہیں چل سکتی، دوٹوک پالیسی اپنانا ہو گی: اعجازالحق

لاہور(سٹی رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ض) کے چیئرمین اعجاز الحق نے کہا ہے نئی حکومت کو خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لیکر بھارت کے ساتھ دو ٹوک پالیسی اپنانا ہوگی، کشمیر اور پانی کے مسئلے کے حل تک بھارت کے ساتھ کوئی امن کی آشا نہیں چل سکتی۔ سابقہ حکومتی غلط پالیسی سے کشمیر کا ایشو اقوام متحدہ کے ایجنڈے سے نکل گیا۔ لاہور میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز الحق نے کہا اگلے ماہ ملک بھر میں پارٹی کی تنظیم سازی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ ہم نئی بننے والی نواز شریف حکومت کی مکمل حمایت کرینگے اگر ان کی حکومت نے عوام کی توقعات کے مطابق کام نہ کیا تو ہم اسمبلیوں سے باہر آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا حالیہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا پنجابی نے پنجابی، سندھی نے سندھی، بلوچ نے بلوچوں اور پٹھان نے پٹھانوں کو ووٹ دیکر کامیاب کرایا ہے۔ آنے والی حکومت کو بہت سارے چیلنجوں کا سامنا ہے جس میں دہشت گردی سب سے بڑا ایشو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے افواج پاکستان، حکومت اور امریکہ کو آن بورڈ لے کر فیصلے کرنا ہونگے۔ اعجاز الحق نے کہا نئی حکومت کو چاہیے کہ ایک سال کے لیے چاروں صوبوں کے ترقیاتی فنڈز روک کر انہیں توانائی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ انڈسٹری بحال اور ٹیکس میں اضافہ ہو۔ سندھ میں جاری ٹارگٹ کلنگ کو جب تک ختم نہیں کیا جائے گا ہم ترقی نہیں کر سکیں گے۔ چین اور سعودی عرب پاکستان کے انرجی مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ان کے اعتماد پر پورا اتریں۔