پنجاب اسمبلی : اپوزیشن کا احتجاج‘ سیٹیاں‘ باجے بجائے‘ حکومتی ارکان کا بھرپور جواب‘ نعرے بازی

لاہور (سپیشل رپورٹر + کامرس رپورٹر+ ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے تیسرے روز بھی حکومت کے رویہ، اپوزیشن ارکان اسمبلی کی جگہ اپنے ہارے ہوئے امیدواروں کو ترقیاتی فنڈز دینے، قائم مقام سپیکر کے خلاف زمین کے سکینڈل پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج جاری رکھا جس میں اپوزیشن ارکان مسلسل حکومت کے خلاف سپیکر کے ڈائس کے سامنے نعرہ بازی کرتے رہے جواب میں حکومتی ارکان بھی نعرے لگائے اور بھرپور جواب دیا جس سے ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ قائم مقام سپیکر کارروائی کو جلدی جلدی نمٹانے میں لگے رہے اور ایک موقع پر بدحواسی میں حکومتی رکن شیخ علائو الدین کی تحریک التوائے کار یہ کہہ کر پینڈنگ کر دی کہ وہ ملک سے باہر ہیں جبکہ علائو الدین تحریک التوائے کار پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ اپوزیشن ارکان کی طرف سے احتجاج کی وجہ سے اجلاس ہنگامہ خیز رہا۔ سپیکر نے ایوان میں سیٹیاں باجے بجانے پر سخت ایکشن کی وارننگ دی۔ اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان سپیکر کے ڈائس کے سامنے اکٹھے ہو گئے اور نعرہ بازی شروع کر دی انہوں نے ’’ لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘‘ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو، امریکہ اور مودی کا جو یار ہے وہ غدار ہے غدار ہے۔ جعلی مینڈیٹ نامنظور، نامنظور کے نعرے لگائے۔ حکومتی ارکان بھی کھڑے ہو گئے اور یہودیوں کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے یہودی لابی کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے کے نعرے لگا کر جواب دیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینکتے رہے۔ اس پر کچھ دیر بعد سپیکر نے وقفہ سوالات شروع کردیا وہ اپوزیشن کے ارکان کے سوالات کو ڈسپوز آف جبکہ حکومتی ارکان کے سوالات کے جوابات وزیر ماحولیات سے لیتے رہے۔ اس موقع پر وزیر ماحولیات کو جواب دینے میں دشواری پیش آئی تھی۔ اپوزیشن ارکان جیسے ہی وزیر کی باری آتی نعرے تیزی سے لگانا شروع کر دیتے۔ اسی دوران تحریک انصاف کی سعدیہ سہیل رعنا، راحیلہ ا نور نے باجے اور سیٹیاں بجانا شروع کردیں۔ علی رضا دریشک بھی سیٹی بجاتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے جس پر سپیکر نے اس کو کہا کہ اب سیٹی بجائی تو تمہارے خلاف کارروائی ہو گی، حکومتی ارکان نے دوبارہ نعرے بازی شروع کر دی اور عمران خان پاگل خان کے پوسٹر اٹھا لئے۔ اس دوران قائم مقام سپیکر نے امن و امان پر بحث شروع کرنے کا اعلان کر کے اپوزیشن لیڈر محمودالرشید کو مخاطب کیا کہ ان کی درخواست پر بحث رکھی گئی ہے اس لئے وہ بات کریں لیکن اپوزیشن نعرے لگاتی رہی جس پر سپیکر نے اجلاس پیر کے روز تین بجے تک ملتوی کر دیا۔ قبل ازیں جب اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ جس پر پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد ارشد نے کہا کہ آج حکومتی بزنس نہیں تھا اس لئے کورم کی نشاندہی نہیں کی جانی چاہئے تھی قائم مقام سپیکر نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی روایت نہیں ہے۔ انہوں نے اجلاس کی کارروائی روک کر 5 منٹ گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا جس کے بعد ایوان میں گنتی کرائی گئی تو کورم پورا نہیں تھا جس پر قائم مقام سپیکر نے اجلاس آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ قائم مقام سپیکر نے دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دیا اور کورم پورا نکلا۔ وقفہ سوالات میں صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات کرنل (ر)شجاع خانزادہ نے لاہور میں 2سٹروک آٹو اور موٹر سائیکل رکشہ کی وجہ سے شہر میں فضائی آلودگی میں اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں تمام 2سٹروک آٹو اور موٹر سائیکل رکشے غیر قانونی طور پر چل رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کرنا ہمارا نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور سٹی پولیس کا کام ہے‘ گیس کی لوڈشیڈنگ اور کمی کی وجہ سے مل مالکان پائوڈر کوئلہ اور ٹائر ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے‘ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی درجنوں فیکٹریوں کو سیل کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے اسمبلی کے باہر بھی احتجاج کیا۔ حکومتی خواتین ارکان اسمبلی کے اجلاس کے بعد نعرے مارتی ہوئیں پلے کارڈز اٹھائے باہر آئیںاور یہودی کا داماد نامنظور، پاگل خان پاگل خان، نارووال کی شکست پی ٹی آئی کو مبارک ہو کے نعرے لگائے۔ جواب میں متحدہ اپوزیشن کے ارکان بھی باہر آگئے اور شریف آمریت مردہ باد، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی کے نعرے لگا کر جواب دیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ مطالبات پورے ہونے تک اپوزیشن ارکان اجلاس کو نہیں چلنے دیں گے۔