لاہور: حلقہ پی پی 160 مےں ضمنی الیکشن کےلئے انتخابی مہم شروع

لاہور (تجزیہ_ فرخ بصیر) پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 160 میں 24جون کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں نے حلقے کی بااثر برادریوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کارنر میٹنگز اور اپنے ڈیروں پر کارکنوں کی آﺅ بھگت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ حلقہ گزشتہ ایک دہائی سے ن لیگ کا ووٹ بنک کہلاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے رانا مبشر کی بی اے کی ڈگری جعلی ثابت ہونے کے بعد یہاں سے قومی اسمبلی کے رکن ملک افضل کھوکھر کے بڑے بھائی اور علامہ اقبال ٹاون کے کوآرڈینیٹر ملک سیف الملوک سمیت (17) امیدوار میدا ن میں ہیں جن میں قابل ذکرپیپلز پارٹی کے سابق ٹکٹ ہولڈر امجدجٹ کے چھوٹے بھائی منصف علی جٹ، سابق ایم پی اے ملک کرامت کے بھتیجے ملک زمان کھوکھر، جماعت اسلامی کے امیدوار ملک جہانگیر حسین بارا، تحریک انصاف کے ملک ظہیر عباس کھوکھر اورق لیگ کے محمد شہباز کھوکھر شامل ہیں۔ اس حلقے کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے والی برادریوں میں کھوکھر، ارائیں ،جٹ، ڈوگر اور گجر شامل ہیں جبکہ اس حلقے میں جہاں جماعت اسلامی کا ہیڈ کوارٹر منصورہ آتا ہے وہاں ٹھوکر نیاز بیگ اور کچی کوٹھی کی اہل تشیع برادری کا کردار بھی نہایت اہم ہو گا تاہم پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ہونے کی وجہ سے ضمنی الیکشن میں اسی جماعت کے امیدوار ملک سیف الملوک کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ تاہم حلقے میں تحریک انصاف کی طرف سے کھڑے ہونے والے امیدوار اور سابق ایم این اے ملک ظہیر عباس کھوکھر کا بھی علاقے میں گہرا اثرورسوخ ہے۔ ن لیگ کے سیاسی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنر پنجاب نے ن لیگ کو ٹف ٹائم دینے کے لئے انہیں تحریک انصاف سے ٹکٹ لیکر دیا ہے۔ پی پی160 کی8یونین کونسلوںمیں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 88ہزار 8ہے۔