سروسز ہسپتال: 28ارب کے فنڈز 6ماہ میں ختم، مفت ادویات کی سہولت بند

لاہور (ندیم بسرا سے /نیوز رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایات کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے ضرورت مند مریضوں کو مفت ادویا ت ملنا تو دور کی بات باقی سہولتوں کا بھی شدید فقدان ہے ،لاہور میں 1200 بیڈزپر مشتمل ماڈل ہسپتال کہلانے والے سروسز ہسپتال مےں کئے گئے نوائے وقت کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پورے سال کے لئے ملنے والے 28ارب روپے کے فنڈز6 ماہ میں ہی ختم ہو گئے جس کے بعد ایمرجنسی کے علاوہ اور کسی بھی یونٹ میں گزشتہ 5 ماہ سے مفت ادویات کا تصور ہی ختم ہو گیا، مین آپریشن تھیٹر ،ان ڈورز اور آﺅٹ ڈورز میں تمام ادویات مریضوں کو پرائیوٹ میڈیکل سٹورز سے حاصل کرنا پڑتی ہیں ،آپریشن تھیٹرز کا سارا سامان سرجیکل بلیڈ، آپریشن میں استعمال ہونے والے دھاگے ،بے ہوشی کا انجکشن سمیت دیگر ادویات پرائیویٹ میڈیکل سٹورز سے حاصل کرنا پڑتی ہےں۔ ایمرجنسی میں خون کی الٹیاں کرتے آنے والے مریضوں کے لئے اینڈوسکوپی کی سہولت موجود نہیں ، ڈائلاسز سنٹر مےں دور دراز کے شہروں سے آنے والے گردوں کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو شام اور رات کے وقت نہیں ملتی ،1200 بیڈز کے لئے صرف 26وینٹی لیٹرز ہیںجن میں سے4 اکثر اوقات خراب ہی رہتے ہیں ،جلے ہوئے مریضوں کے لئے برن یونٹ موجود ہی نہیں ہے جلے ہوئے مریضوں کو جنرل سرجری کی وارڈز میں رکھا جاتا ہے جس کیو جہ سے جلے ہوئے مریضوں میں انفیکشن کی شرح کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے ،ہسپتال کی ایکسرے مشین کی پرنٹنگ فلم دوبرس سے ختم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے مریضوںکو ایکسر ے کاغذ پرکر کے دیا جاتا ہے جس کا رزلٹ ایک دن کے بعد ختم ہو جاتا ہے، بون سکین کی سہولت بھی دستیاب نہیں، کینسر کی تشخیص اور پتے کی پتھریوں کی تشخیص کے ٹیسٹ کی سہولت (ERCP) بھی ضرورت مند مریضوں کو نہیں ملتی۔ پروفیسرز اپنے وارڈز میں روزانہ کی بجائے ہفتے میں مخصوص ایک یا دو دن ہی بیٹھتے ہیں ،سینئر رجسٹرار ،اسسٹنٹ ،ایسوسی ایٹ اور پروفیسرز کا آﺅٹ ڈور اور انڈور میں بیٹھنے کارواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایم ایس ڈاکٹر محمد جاوید نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے رواں مالی سال کے لئے 28 ارب روپے کے فنڈز ملے تھے جو 6 ماہ میں ختم ہو گئے اب صرف ایمرجنسی میں ہی مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں ،اینڈوسکوپی کی سہولت تمام یونٹ میں موجود ہے ،خراب وینٹی لیٹرز کے لئے بورڈ اور حکو مت کو فنڈز کے لئے لکھ دیا گیا ہے ،ایکسر ے کے سسٹم کو آن لائن کر دیا گیا ہے اگر کسی کو ایکسرے پرنٹ چاہئے تو وہ فلم خود لا سکتا ہے۔