’’را‘‘ نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کو پاکستان آمد پر دھمکی دی: وزیر داخلہ پنجاب

’’را‘‘ نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کو پاکستان آمد پر دھمکی دی: وزیر داخلہ پنجاب

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر+ سپورٹس رپورٹر+ ایجنسیاں) وزیر داخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کا کہنا ہے کہ زمبابوے کرکٹ ٹیم کو پاکستان آمد سے قبل دھمکی آمیز پیغام بھیجا گیا تھا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی کرکٹ سیریز کو منسوخ کرنا تھا۔ شجاع خانزادہ کا کہنا تھا کہ زمبابوے کرکٹ ٹیم جب دورہ پاکستان کے لیے دبئی سے لاہور کے لیے روانہ ہونے والی تھی تو ٹیم کے منیجر کو موبائل پر ایک دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیغام میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے وہاں آپ کو بہت سے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دولت اسلامیہ جو عراق اور شام میں کر رہی ہے، وہی حال آپ کا ہو گا اِس لیے ہم آپ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ آپ پاکستان کا دورہ منسوخ کر کے واپس چلے جائیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ زمبابوے کی جانب سے ہمارے ساتھ یہ ایس ایم ایس شیئر کیا گیا جس پر پاکستان کے خفیہ اداروں نے پیغام کر ٹریس کیا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ایس ایم ایس دہلی سے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے بھیجا تھا۔ اِس پیغام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ہونے والی کرکٹ سیریز کامیاب ہو اور وہ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں بدنام کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ را تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر ملک کے اندورنی معاملات میں دخل اندازی کر رہی ہے اور ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بھی ملوث ہے۔ پاک چین اکنامک کوریڈور کے منصوبہ کے باعث بھارت اور اس جیسے دیگر حاسد ممالک کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر انہیں دہشتگردوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں مگر وہ نیشنل کاز کی خاطر ان دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بڑے شہروں سے سیف سٹی پراجیکٹس شروع کئے جا رہے ہیں جن کے تحت شہریوں کی سکیورٹی کا معیار بہت بہتر ہو جائے گا۔ سیف سٹی پراجیکٹس کے تحت لاہور شہر میں 80 ہزار کیمرے نصب کئے جائیں گے ا ور کرائم سرویلنس کی جائے گی۔ سپیشل برانچ کو از سرنو منظم کر کے اسے مکمل طور پر ایک جدید سویلین ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے حوالے سے 23620 کیسز درج کئے گئے ہیں، جن میں 25260 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پنجاب میں 208 افراد کو دہشت گردی میں ملوث قرار دیا جا چکا ہے ان میں سے 75 کو گرفتار کیا جبکہ باقی افراد کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک و صوبہ کا امن خراب کرنے اور دہشت گردوں کی معاونت کرنے اور انہیں سہولت فراہم کرنے میں ملوث غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف وفاق کے ساتھ ملکر کارروائی کی جائے گی۔ ملک میں دہشت گردی کے 90 فیصد واقعات میں را ملوث ہے۔