روزہ تزکیہ نفس‘ تقویٰ‘ قرب خداوندی‘ نجات اخروی کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہے

روزہ تزکیہ نفس‘ تقویٰ‘ قرب خداوندی‘ نجات اخروی کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہے

لاہور (سیف اللہ سپرا) روزہ اللہ تعالیٰ کی افضل ترین عبادت جو تقویٰ پیدا کرنے، تزکیہ نفس، قرب خداوندی اور نجات اخروی کے حصول کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا۔ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے نوائے وقت گروپ کے زیر اہتمام ایوان وقت میں ’’رمضان کی فضیلت و اہمیت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے میں کیا۔ مذاکرے کے شرکا میں جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ محمد راغب حسین نعیمی، ادارہ منہاج الحسین کے بانی و سرپرست ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر، اسلامی نظریہ کونسل کے سابق رکن اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سینئر نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر اور جامعہ رحمانیہ کے ناظم اعلیٰ و جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا محمد امجد خان تھے۔ مذاکرے کی نظامت انچارج ایوان وقت سیف اللہ سپرا نے کی۔ علامہ محمد راغب حسین نعیمی نے کہا انسان کی پیدائش کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور روزہ عبادات میں سے ایک ہے۔ روزے کی فرضیت میں یہ بھی بتا دیا یہ عبادت تمہارے لئے کوئی نئی نہیں بلکہ تم سے پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے۔ روزے کا مقصد تقویٰ بیان کیا گیا ہے۔ تقویٰ ایک ایسی صفت ہے جس کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف عبادات فرض کیں اور تقویٰ جیسی صفت دینی و دنیاوی لحاظ سے بہت ضروری ہے۔ روزہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا محافظ بن کر بھی سامنے آتا ہے۔ روزہ افطار کرانے کا بڑا ثواب ہے چاہے ایک گھونٹ پانی یا کھجور کے ایک ٹکڑے سے کروایا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماہ رمضان کو لوٹ کھسوٹ کا مہینہ بنا لیا گیا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی مصنوعی قلت کر کے ناجائز منافع حاصل کیا جاتا ہے۔ اسلام نے ان سب برائیوں سے منع کیا ہے۔ روزہ اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے اس مہمان کی عزت و تکریم کریں اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں روزے کی عزت و تکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر نے کہا اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جو عبادات فرض کی ہیں ان میں سے ایک عبادت روزہ ہے۔ روزہ کو جہاں جہنم سے بچنے کی ڈھال قرار دیا گیا وہاں پر اس کی جزا خدا نے خود اپنے ذمہ لی۔ روزہ انسان کو خداوند تعالیٰ کے حاضر و ناظر ہونے کی عملی تربیت بھی دیتا ہے۔ رمضان کے لغوی معانی کسی چیز کا جل کر اس طرح ختم ہو جانا ہے کہ جلتے ہوئے نہ تو دھواں دکھائی دے اور نہ ہی اس کی راکھ۔ یہ کنایہ ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ ماہ رمضان میں توبہ کرنے والے گناہ گار بندوں کے گناہوں کو جلا کر اس طرح ختم کر دیتا ہے کہ نہ تو کسی کو پتہ چلتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی نشان باقی رہتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں موجود مفلوک الحال وہ غربا اور فقرا جو ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں ہمیں انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ضروریات زندگی پہنچانا چاہئے کیونکہ مخلوق خدا کی خدمت بہت بڑی عبادت ہے۔ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا روزہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہترین اور افضل ترین عبادت ہے جو تقویٰ پیدا کرنے، تزکیہ نفس، قرب خداوندی اور نجات اخروی کے حصول کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ روزہ اپنے تمام تقاضوں اور لوازمات کے ساتھ پورا کیا جائے تو یہ انسان کی نجات اخروی اور جہنم سے نجات کی گارنٹی بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ جو روزہ رکھ کر فرض نمازیں بھی نہ پڑھیں ان کا روزہ رکھنا یا نہ رکھنا برابر ہے۔ روزہ رکھنے کے بعد جو کام لازمی ہے وہ تلاوت کلام پاک ہے اور حقوق العباد کا خیال رکھنا ہے۔ مولانا محمد امجد خان نے کہا دین اسلام نے مسلمان پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں انہی فرائض میں ایک فریضہ رمضان المبارک کے روزے ہیں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا کہ روزے رکھوانے کا مقصد تمہارے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ تقویٰ کہتے ہیں اللہ کے ڈر اور خوف کو۔ حضرت علیؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ روزے اصل میں ہیں ہی گرمی کے۔ سردی کے روزے میں تو بھوک اور پیاس نہیں لگتی۔ گرمی کے روزہ میں روزے دار تڑپ اٹھتا ہے اس پر تو اجر اور ثواب ملنا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس ماہ مقدس میں، جس میں نفلوں کا ثواب فرضوں کے برابر اور فرضوں کا 70 فرضوں کے برابر کر دیا جاتا ہے اس ماہ مقدس میں حقوق اللہ کی ادائیگی کے ستھ حقوق العباد کی طرف بھی پوری توجہ دیں تاکہ خدا کرے ہمارے ملک سے غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ ہمارے معاشرے کے اہل ثروت حضرات کو اس ماہ مقدس میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ ان کے حق کی ادائیگی کا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زکٰوۃ کی ادائیگی ٹھیک ہو جائے اور حقدار لوگوں تک پہنچ جائے تو غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ فورم کے شرکا نے کراچی میں گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور ساتھ حکومت سے اس کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔