پنجاب اسمبلی : 43 مطالبات زر منظور‘ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد

پنجاب اسمبلی : 43 مطالبات زر منظور‘ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد

لاہور (کلچرل رپورٹر+ کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں 2014-15ءکیلئے تمام مطالبات زر منظور کر لئے۔ 43 مطالبات زر میں سے پولیس کے بارے میں مطالبہ زر جمعہ کے روز منظور ہوا جبکہ صحت، تعلیم اور زراعت کے بارے میں تین مطالبات زر پیر کے روز بحث کے بعد منظور کر لئے گئے اور اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جانیوالی کٹوتی کی تحریکیں مسترد کردی گئیں۔ باقی 39 مطالبات زر قواعد و ضوابط کے مطابق سپیکر نے گلوٹین کا اطلاق کرتے ہوئے منظور کر لئے جس کے مطابق ہر مطالبہ زر براہ راست سپیکر نے پیش کیا اور اس پر صرف رائے شماری ہوئی اور بحث نہیں ہوئی اور براہ راست منظور کر لی گئی۔ کامرس رپورٹر کے مطاٹق قائد حزب اختلاف محمود الرشید نے ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد پر راولپنڈی میں انتظامیہ کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سپیکر پنجاب اسمبلی سے درخواست کی کہ راولپنڈی کی انتظامیہ کو ہدایت کی جائے کہ وہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ممبران پنجاب اسمبلی کو سہولت فراہم کریں کہ وہ پتنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ اس پر تحسین فواد ایم پی اے نے کہا میں بھی راولپنڈی سے آتی ہوں۔ بعدازاں صوبائی وزیر طاہر خلیل سندھو نے کہا ہمارے 2 وزیر اور پنڈی سے تعلق رکھنے والے ممبرز اجلاس میں شریک ہیں جس پر سپیکر نے کہا راستے میں کوئی رکاوٹ ہے تو انتظامیہ اسے ہٹائے ایم پی اے حضرات کو نہ روکا جائے۔ اس پر ایوان میں موجود دیگر ممبران ہنس پڑے۔ گذشتہ روز آئندہ مالی سال 2014-15ءکے لئے صحت کے لئے 55 ارب 13 کروڑ 9 لاکھ 17 ہزار روپے پر مبنی مطالبہ زر کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ صحت کے لئے مطالبہ زر صوبائی وزیر طاہر خلیل سندھو نے پیش کیا۔ اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی۔ اپوزیشن رکن اسمبلی نوشین حامد نے صحت کے لئے مطالبہ زر کو ایک روپیہ کرنے کی کٹوتی کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے کہا صوبے میں صحت کا بہترین نظام موجود ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں مل رہا اس کی وجہ حکومت کی غلط ترجیحات ہیں یہاں زچگی کے دوران ما¶ں کی اموات کی شرح ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے 90 فیصد زائد ہے۔ ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کے علاج کے لئے ادویات کی خریداری کا بجٹ کم کر دیا گیا ہے اس طرح ڈینگی اور ملیریا کے امراض کے لئے بھی بجٹ کی یہی صورتحال ہے۔ ہسپتالوں میں آئی سی یو کی صورتحال خراب ہے ہیلتھ انشورنس کارڈ کے لئے بجٹ گذشتہ سال بھی مختص کیا گیا لیکن خرچ نہیں ہوا۔ اپوزیشن رکن اسمبلی شنیلہ روت نے کہا صحت کے لئے بجٹ کے اعداد و شمار ہر بجٹ کتاب میں مختلف ہیں۔ اپوزیشن رکن اسمبلی نبیلہ حاکم علی نے کہا حکومت پولیو اور ڈینگی کے خلاف مہم شروع کرنے کی بجائے اس کے سدباب کے لئے پہلے اقدام نہیں کرتی۔ صوبائی وزیر طاہر خلیل سندھو نے کہا حکومت نے رواں مالی سال کے مقابلے میں 9 ارب 22 کروڑ روپے زائد مختص کیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق پنجاب اسمبلی نے 11 کھرب 85 ارب 41 کروڑ 15 لاکھ 73 ہزار روپے سے زائد کے 43 مطالبات زر کی منظوری دی جبکہ اپوزیشن ارکان پولیس کیلئے 81 ارب 36 کروڑ 29 لاکھ 16 ہزار کے بجٹ کو جرائم میں اضافہ قرار دیتے ہوئے اسے بڑھانے کی شدید مخالفت کرتے رہے۔

پنجاب اسمبلی