طاہر القادری کی آمد، لاہور پولیس نے پورا ’’بندوبست‘‘ کر رکھا تھا

لاہور (احسان شوکت سے) ڈاکٹر طاہر القادری کی لاہور آمد پر امن وامان کی صورتحال بگڑنے کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر پولیس نے پورا ’’بندوبست‘‘ کر رکھا تھا مگر معاملہ خوش اسلوبی سے طے پانے پر اس کی نوبت نہیں آئی۔ جس پر دباؤ کے شکار پولیس افسروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے جبکہ  طاہر القادری کا طیارہ لاہور اتارنے پر پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے حکمرانوں کے خلاف طیارہ ہائی جیک کا مقدمہ درج کرانے کے لئے بھی درخواست دی جائے گی۔ پولیس نے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کنٹرول کرنے کئے لئے سخت سکیورٹی پلان تیار کیا تھا جس کے تحت ساڑھے 12ہزار پولیس افسروں و اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں جبکہ پولیس کے علاوہ ایلیٹ کمانڈوز، کوئیک رسپانس فورس اور نئی پنچ فورس کے تربیت یافتہ جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا تھا ۔کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لئے پولیس کے خصوصی دستے سٹینڈ بائی بھی رکھے گئے تھے۔ بکتر بند گاڑیوں، بڑی تعداد میںآنسو گیس کے شیل، ربڑ کی گولیوں کا ذخیرہ بھی کیا گیا تھا۔ پولیس نے تمام صورتحال سے آگاہ رہنے کے لئے دو کنٹرول روم بھی بنائے تھے۔ پولیس نے پنجاب اسمبلی، دیگر شاہراہوں اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرنے کے لئے کنٹینرز کا بندوبست کر رکھا تھا۔ پولیس طاہر القادری کی لاہور آمد پر اتنا دباؤ کا شکار تھی کہ اتوار کے روز بھی سنٹرل پولیس آفس میں آئی جی کی سربراہی میں لاہور پولیس کے افسروں کے میٹنگ ہوئی تھی۔
پولیس/ بندوبست