طاہرالقادری کی آمد، چودھری سرور، شہباز شریف، پرویز الٰہی کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا

طاہرالقادری کی آمد، چودھری سرور، شہباز شریف، پرویز الٰہی کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا

لاہور (فرخ سعید خواجہ) ڈاکٹر طاہرالقادری کی وطن واپسی پر کئی اتار چڑھائو آئے تاہم ڈاکٹر طاہرالقادری کے علاوہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور، پرویز الٰہی کے کردار نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری جس طرح وقت کے مطابق مؤقف تبدیل کرتے رہے اس سے انہیں عزت کے ساتھ جہاز سے باہر آنے، جناح ہسپتال میں اپنی جماعت کے لوگوں کی عیادت کرنے اور اپنی رہائش گاہ پر اجتماع کرنے کا موقع مل گیا۔ محمد شہباز شریف کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی لاہور آمد کے بعد لمحہ بہ لمحہ کو خود مانیٹر کیا ان کی فری ہینڈ دینے کی پالیسی نے سیاسی ٹمپریچر کم کرنے میں مدد دی۔ جو شخصیت اس تمام صورتحال میں ابھر کر سامنے آئی وہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور ہیں۔ ایک تو ڈاکٹر طاہرالقادری نے بذات خود حکومتی کیمپ میں سے گورنر چودھری محمد سرور کو قابل قبول قرار دیا اور چودھری محمد سرور کے محمد شہباز شریف کی مشاورت سے ڈاکٹر طاہرالقادری کے جہاز میں جانے کے فیصلے نے ان کی سیاسی اہمیت میں اضافہ کر دیا۔ سیاسی حلقوں کو توقع تھی کہ چودھری سرور اگلے ایک دو روز میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کو تعزیت کیلئے ڈاکٹر طاہرالقادری کی اجازت سے ان کے پاس لے جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری جس وقت گورنر پنجاب کے ساتھ جناح ہسپتال روانہ ہونے والے تھے اس وقت پرویز الٰہی نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو اس بات پر قائل کر کے کہ ان کا انتظار کیا جائے تاکہ وہ اکٹھے جناح ہسپتال جائیں نقشہ ہی پلٹ دیا۔ چودھری پرویزالٰہی پندرہ منٹ میں لاہور ایئرپورٹ کے حج ٹرمینل پر پہنچ گئے اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے علاوہ گورنر کو بھی اپنی گاڑی میں سوار کروایا۔ چودھری پرویز الٰہی نے ڈاکٹر طاہرالقادری سے ان کے کارکنوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اس کے بعد دوبارہ تلخ ہو گئے اور اب اس بات کا امکان کم ہے کہ گورنر پنجاب ان کے اور شریفوں کے درمیان سماجی تعلق بحال کروانے میں کامیاب ہو سکیں۔
کردار نمایاں