امارات ایئرلائن نے اپنا طیارہ واگزار کرانے کیلئے دھمکی دی

لاہور (سید شعیب الدین سے) حکومت اور طاہرالقادری کی جانب سے امارات ایئرلائن کے طیارے سے اترنے، اسلام آباد جانے، فوج کی سکیورٹی کے مطالبات ڈیڈ لاک اس وقت حکومت اور طاہرالقادری کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا جس وقت ایئر لائن کے نائب صدر نے اپنا طیارہ واگزار کروانے کیلئے دبائو اور دھمکی دی کیونکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اگر ایئرلائن اس قسم کا مطالبہ کر دیتی تو طیارہ کو اسلام آباد سے لاہور لے آنے کیلئے حکومت کے پاس قانونی جواز نہیں تھا اور طاہرالقادری کے انکار کی صورت میں ان کے خلاف پرچہ درج کر کے ان کو گرفتار کرنا پڑتا تھا جس پر حالات مزید خراب ہو سکتے تھے جس پر گورنر پنجاب کی صورت میں ایک درمیانی راستہ نکالا گیا۔ اس بارے میں سول ایوی ایشن کے ذرائع کے مطابق اگر حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی کہ ایئرپورٹ پر خطرہ ہے تو دیگر فلائٹ کو بھی وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا قانونی جواز ہو سکتا تھا لیکن طیارہ کے وہاں پہنچنے اور جانے کے کچھ دیر بعد فلائٹ اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتاری گئی تھیں۔ تاہم امارات ایئرلائن کی پرواز کو لاہور لا کر وہاں پر کئی گھنٹے تک روکے رکھنے کے بعد اگر ایئرلائن بین الاقوامی ادارے ایاٹا کے پاس اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا دیتی جس پر پاکستان اس کے ممبر کی حیثیت سے پاکستان کو بہت زیادہ جرمانہ ہو سکتا تھا۔ دوسری جانب طاہر القادری کے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ، ٹرانسپورٹ اور دیگر افراد کو قانونی طور پر صوبائی حکومت کا اختیار نہیں تھا کہ وہ ان کو ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے کی اجازت دے سکے۔ تاہم جلدی میں یہ سارا کام کیا گیا جس کی وفاقی حکومت سے اجازت نہیں لی گئی۔ یاد رہے کہ ایئرپورٹ کے اندر پرائیویٹ گاڑیاں اور اسلحہ نہیں جا سکتا ہے۔
امارات پر دھمکی