”بنگلہ دیش میں اسلام سے محبت کرنے والی تنظیموں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے“

لاہور (خصوصی نامہ نگار) ملک کے ممتا ز دانشور وں اور اہل قلم نے بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے جنگی جرائم کے انٹر نیشنل ٹریبونل کو عد ل و انصا ف کے تقاضوں سے سنگین مذاق کے مترادف قرار دیتے ہو ئے اسے مستر د کر دیا ہے بنگلہ دیش حکومت اور دیگر مسلم دشمن حکومتیں بھارت کی شہ پر ایک منظم سازش کے تحت پا کستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان نفرتوں میں اضافہ اور مشترکہ مقا صد سے ہٹا کر دونوں برادر مسلمان ملکوںکے عوام کے درمیا ن خلیج کو مزید گہرا کر رہی ہے ا ن خیالات کا اظہا ر گزشتہ روز پا ئنا فورم اور انجمن شہریا ن لاہو ر کے زیر اہتما م فلیٹیز ہو ٹل میں منعقدہ دانشوروں اور اہل قلم کے اہم اجلاس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتا ز افراد نے اظہا ر خیا ل کر تے ہو ئے کیا۔ دانشوروں اور اہل قلم کے اجلاس میں پا ئنا کے سیکرٹری جنرل الطاف حسن قریشی، انجمن شہریا ن لا ہو ر کے صدر رانا نذر الرحمٰن، سیکر ٹری جنر ل میا ں مقصود احمد، ڈاکٹر سید وسیم اختر، عبدالغفا رعزیز، عامرخان خاکوانی، عطا ءالرحمن، حفیظ اللہ نیا زی، مولا نا امیر حمزہ، برگیڈئیر ناصر میر، حامد خان، مجیب الرحمن شامی، اوریا مقبول جان، برگیڈیئر فاروق حمید، ایس ایم ظفر، احمد اویس، جسٹس (ر) خلیل الرحمن، ڈاکٹر پروفیسر مغیث الدین شیخ، احسن اختر نا ز، سید تاثیر مصطفی، ذوالفقارچودھری، ضیا ءالدین انصاری، کرنل فرخ، بشریٰ رحمن، ذکراللہ مجا ہد، علی رضا اور دیگر نے شرکت کی اس موقع پر مقررین نے کہا کہ بنگلہ دیش میں اسلام سے محبت کر نے والی تنظیموں اور جماعتوں کے افراد پر سیا سی انتقامی کارروائیا ں افسوس نا ک اور قا بل مذمت ہیں۔ آئندہ ان اقدامات کو غور و حوض اور لائحہ عمل طے کرنے کیلئے اجلاس میں 8 رکنی کمیٹی ایس ایم ظفر، جسٹس (ر) خلیل الرحمن، احمد اویس، الطاف حسین قریشی، میاں مقصود احمد، مجیب الرحمن شامی، بشریٰ رحمن اور اوریا مقبول جان پر مشتمل بنادی گئی ہے۔