بجٹ میں تعلیم‘ صحت کے شعبے کو ترجیح دی گئی: وزیر خزانہ پنجاب

لاہور (خبر نگار) وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ مالی سال 2013-14ءکے بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبے کو ترجیح دی گئی ہے۔ صوبائی اور اضلاع کے اخراجات کل بجٹ کا 26.6 فیصد تعلیم اور 10.9 فیصد صحت پر خرچ کئے جائیں گے۔ کوئی ایسا ٹیکس نہیں لگایا گیا جو غریب اور متوسط طبقے کو متاثر کرے،متمول طبقے پر ٹیکس لگایا گیا ہے اس لحاظ سے اگلے مالی سال کا بجٹ ایک متوازن بجٹ ہے۔ وزیراعلی شہباز شریف کی قیادت میں صوبے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے جس میں عوام کو صحت کی بہترین سہولیات میسر آئیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود کو بجٹ میں عوامی فلاح وبہبود وصحت کی سہولتوں بارے آگاہ کرتے ہوئے کیا۔ میاں مجتبیٰ شجا ع الرحمن نے بتایا کہ 2013-14ءصحت کی سہولیات کی فراہمی پر 102 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جو کل بجٹ کا 10.9 فیصد ہے۔ بے وسیلہ عوام کو صحت عامہ اور علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لئے ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کے لئے بجٹ میں 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں‘ جبکہ ملتان‘ بہاولپور اور رحیم یار خان کے ہسپتالوں کے لئے ایک ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ عوام کو صاف پانی مہیا کرنے کے لئے 12 ارب روپے کی لاگت سے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے جائیں گے۔ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ گردے کے مریضوں کے لئے ڈائلسز کی سہولت برقرار رکھتے ہوئے 30 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ہیپاٹائٹس اور تپ دق کے مریضوں کے علاج کے لئے 2 ارب 10 کروڑ مختص کئے گئے ہیں اور زچہ بچہ کے لئے طبی سہولیات کی فراہمی کا مربوط پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے جس پر 2 ارب روپے لاگت آئے گی۔ پنجاب حکومت ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے ترقیاتی پروگراموں پر 17 ارب روپے خرچ کرے گی اور چار نئے میڈیکل کالجوں کے ساتھ منسلک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کو ٹیچنگ کا درجہ دینے کے لئے بھی 20 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ضلعی وتحصیل ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کے لئے بھی 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو ضلعی حکومتوں کے بجٹ کے علاوہ ہیں۔