ریلوے کی 25 ارب کے منصوبے کی منظوری کیلئے وزیراعظم کو سمری بھیجنے کی تیاری

ریلوے کی 25 ارب کے منصوبے کی منظوری کیلئے وزیراعظم کو سمری بھیجنے کی تیاری

لاہور (میاں علی افضل سے) محکمہ ریلوے کی جانب سے ملک بھر میں 25 ارب روپے کی لاگت سے ٹریک کی مرمت اور نئے ٹریک بچھانے کے مختلف منصوبوں کی منظوری کےلئے وزیراعظم نوازشریف کو سمری بھجوائی جا رہی ہے جبکہ ریلوے سسٹم میں پہلے سے موجود 78 سو کلومیٹرکو قابل استعمال بنانے کےلئے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی تمام تر توجہ نئے ٹریک بچھانے پر دی جا رہی ہے، ریلوے میں موجودہ ٹریک کے استعمال کےلئے ریلوے کے پاس انجن موجود نہیں ہیں، ہزاروں کلومیٹر موجود ٹریک کو صرف 24 گھنٹوں میں 30 منٹ استعمال کیا جا رہا ہے اور 23 گھنٹے 30 منٹ ریلوے ٹریک مکمل طور پر خالی رہتا ہے انجنوں کی خریداری کی بجائے ریلوے افسران نئے ٹریک پراجیکٹ کی تکمیل کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، انجن نہ ہونے سے مسافر ٹرینیں 13، تیرہ گھنٹے لیٹ ہو رہی ہیں جس سے 57 فیصد تک کرائے کم کرنے کے باوجود ٹرینیں خالی جا ر ہی ہیں۔ 100 کے قریب ٹرینیں بند پڑی ہیں، ٹرینوں میں سفر کرنیوالے سالانہ مسافروں کی تعداد ساڑھے 8 کروڑ سے کم ہو کر ایک کروڑ سالانہ تک پہنچ چکی ہے اس کے باوجود ریلوے ٹریک زیادہ سے زیادہ انجنوں کی روانگی کی بجائے زیادہ توجہ نئے ٹریک بچھانے پر دی جا رہی ہے، ریلوے افسران کی جانب سے وزیراعظم کو جن منصوبوں کی سمری بھجوائی جا رہی ہے ان ٹریک پراجیکٹ میں ایک پشاور سے براستہ پنڈی، فیصل آباد، لاہور تا کراچی ٹریک پر 140 کلومیٹر کی رفتار سے ٹرین کی روانگی کےلئے 8 ارب اور 120 کلومیٹر کی رفتار کی بحالی کےلئے ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے ٹریک کی مرمت کے پراجیکٹ، دوسرا 20 ارب روپے کی لاگت سے گوادر سے طورخم نیا ٹریک بچھانے کا پراجیکٹ اور تیسرا پاکستان، ایران، ترکی فریٹ سسٹم چلانے کےلئے 4 ارب روپے کی لاگت سے نیا ٹریک بچھانے کا پراجیکٹ شامل ہیں۔ نئے ٹریک پراجیکٹ کے متعلق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور جنرل منجیر ریلوے انجم پرویز کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی جا چکی ہے۔