حکومت طالبان سے خود رابطہ کرے، بامعنی مذاکرات کیلئے پالیسی پیپر دے: منور حسن

حکومت طالبان سے خود رابطہ کرے، بامعنی مذاکرات کیلئے پالیسی پیپر دے: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی اور گولہ باری کر کے اوربلوچستان کے حالات خراب کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کو ملٹی ڈائی مینشل کونسل بنادیا گیا ہے۔ حکومت طالبان سے اگر بامعنی مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو اس سے قبل ان کو پالیسی پیپر دے ایک ہی سانس میں مذاکرات اور گولی اور بندوق کی بات کرنا مناسب نہیں۔ داخلی معاملات میں امریکہ اور بھارت کی مداخلت مسائل کو پیچیدہ تر بنا دیتی ہے۔ مرکزی حکومت نے ابھی تک بلوچستان کےلئے کچھ نہیں کیا۔ حکومت پاکستان ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان 1972ءمیں ہونیوالے معاہدے کو منظر عام پر لائے جس کی رو سے دونوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے جنگی جرائم کے حوالے سے کوئی مقدمات نہ بنانے کا معاہدہ کیا تھا، بنگلہ دیش حکومت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگی ٹریبونل قائم کر کے محب وطن پاکستانیوں کو سزائیں دے رہی ہیں۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کراچی میں ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید منورحسن نے کہا کہ بھارت وزیراعظم نوازشریف کی نرمی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ہم اسے مسلسل مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں اور موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینے کے لئے بے قرار ہیں لیکن بھارت کے لب ولہجے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لائن آف کنٹرول پر سنگین صورتحال اور بلوچستان میں بھارت کا منفی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بھارت نے پاکستان کے دریاﺅں پر ڈیم بنا کر آبی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور پانی کا رخ موڑا ہے اور اب وہ اسی پانی سے بجلی بناکر ہمیں فروخت کرنا چاہتا ہے ۔ سید منور حسن نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر پر تجاویز کے حوالے سے وزیراعظم کو قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے اور جن پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے ان کو عملی جامع پہنانے کی منصوبہ بندی اورکوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کے بعد پہلے اجلاس میں جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کےلئے کافی ہے حکومت مذاکرات کی فضا بنائے، بیک وقت مذاکرات اور گولی و بندوق کی باتیں کرنے سے گریز کیا جائے۔ طاقت اور قوت کا استعمال اس سے پہلے جہاں ہوا ہے وہاں کی رپورٹ بھی آنی چاہئے۔ مذاکرات کی میز پر آنے سے قبل حکومت کو خود طالبان سے رابطہ کرنا چاہئے۔ سید منورحسن نے کہا کہ ہم پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ طالبان وضاحت کریں کہ وہ ہم سے کس قسم کی ضمانت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اس میں ان کی طرف سے کوئی عزم حوصلہ اور ارادہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ عوام کے زخموں کا کوئی مداوا کرنا چاہتے ہیں یا عوام کو واقعی کوئی ریلیف دینا چاہتے ہیں۔ پانچ سال میں لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے گی، اس پر تو صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ پانچ سال بعد تو وزیراعظم سے ہی نجات مل جائے گی۔ سید منور حسن نے کہا کہ 2014ءمیں اگر واقعی امریکہ کابل سے واپس جا رہا ہے تو حکومت پاکستان نے اس حوالے سے کیا تیاری کی ہے کہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔