ہائیکورٹ نے اندرون شہر غیرقانونی رہائشی‘ تجارتی عمارتوں کی تعمیر روک دی

لاہور(وقائع نگار خصوصی) جسٹس سید منصور علی شاہ نے اندرون شہر لاہور میں غیر قانونی رہائشی اور تجارتی عمارتیں تعمیر کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر تے ہوئے 136 کثیرالمنزلہ عمارتوں اور تمام غیر قانونی تعمیرات 17 فروری تک روک دیں۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اندرون شہر لاہور کی تاریخی اہمیت ہے اور یہ ایک ورثہ ہے 2012سے والڈ سٹی اتھارٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ضلعی حکومت سے اختیار لے کر والڈ سٹی کے اندر تمام تعمیرات اور نقشوں کی منظوری اس کے اختیار میں آگئی ہے مگر وہ اپنا اختیار منوانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے امام بارگاہ کے آس پاس رہائشی عمارتیں دھڑا دھڑ گرا کر تجارتی وکثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کردی گئی ہیں چھوٹی چھوٹی گلیوں میں گزرنے کا راستہ نہیں اگر وہاں کوئی بھی بڑا سانحہ ہوا تو ایمرجنسی گاڑیوں، ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ گاڑیوں کے گزرنے کی جگہ نہ ہوگی والڈ سٹی اتھارٹی نے اختیار تو لے لیا مگر ابھی تک مطلوبہ ریگولیشن رولز تشکیل نہیں دئیے گئے اور اندرون شہر میں تقریباً400کے قریب غیر قانونی عمارتیں بن چکی ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ اندرون شہر ایک تاریخی ورثہ ہے اِس کا حسن خراب نہیں ہونے دینگے دیکھنا یہ ہے کہ ادارے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں یا نہیں؟ جسٹس سید منصور علی شاہ نے والڈ سٹی اتھارٹی کے وکیل شہزاد چغتائی سے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگ سوئے ہیں؟ اِس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اِس قانون کا مقصد ہی تاریخی ورثہ کو تحفظ فراہم کرنا تھا اور سیکشن 23 کے تحت اِس ورثہ کی حفاظت کرنا تھی۔ سیکشن 24 کے تحت یہاں زون تشکیل دینے تھے اور سیکشن 28 کے مطابق کوئی بھی فرد والڈ سٹی اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی رہائشی عمارت گرا سکتا ہے نہ ہی بنا سکتا ہے مگر مافیا یہ کام جاری رکھے ہوئے ہے ہم نے مختلف قوانین بنا کر حکومت کو دے دیئے ہیں اُنکی منظوری ہونا ہے ہم نے 136 عمارتوں کی نشاندہی کی ہے جن کی غیر قانونی طور پر تعمیر جاری تھی، اُن کیخلاف مقدمات درج ہوئے مگر غیر قانونی تعمیرات جاری ہے ہم بے بس ہیں ہمارا کوئی مجسٹریٹ نہیں ہے۔ ایف آئی آر والوں پر 5 سے 10 ہزار روپے جرمانہ ہوتا ہے۔ عمارتوں کو کنٹرول کے معاملے میں اگر ہم اختیارات استعمال نہ کریں تو ضلعی حکومتوں نے کرنا ہے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ایل ڈی اے اور ضلعی حکومت کا اب اندرون شہر کے معاملات میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اتھارٹی کے وکیل نے بتایا کہ ہمیں غیر قانونی تعمیرات روکنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ادارے اپنے اختیارات کیوں استعمال نہیں کرتے اور عدالتوں پر بوجھ ڈالتے ہیں؟ والڈ سٹی اتھارٹی کے وکیل نے عدالت میں 136 غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کے متعلق لسٹ پیش کی جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے سی سی پی او لاہور کو ہدایات جاری کیں کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کروائیں اور غیر قانونی عمارتوں کی اندرون شہر تعمیرات رکوائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کریں اور آئندہ تاریخ پر عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے ایل ڈی اے اور ضلعی حکومت کو علیحدہ سے نوٹسز جاری کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔