سندھ میں تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری سے تہلکہ مچ گیا، سینٹ الیکشن پر اثر پڑ سکتا ہے

لاہور (فرخ سعید خواجہ) 1973ء کے آئین کے تحت ایوان بالا سینٹ کے ممبران کی تعداد 45 مقرر کی گئی، 1977ء میں تعداد کو بڑھا کر 63 اور 1985ء میں 87 کر دیا گیا۔ 2002ء میں سینٹ کے ممبران کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کیا گیا اور اسے 100 کر دیا گیا۔ سینٹ آف پاکستان کا قیام دراصل وفاق پاکستان کے تمام یونٹس کو مساوی نمائندگی دینے کیلئے کیا گیا تھا جبکہ پہلی مرتبہ نان مسلم 4 نشستیں بھی سینٹ میں شامل کر دی گئیں جس سے سینٹ کے ممبران کی تعداد بڑھ کر 104 ہو گئی۔ چاروں صوبوں پنجاب، خیبر پی کے، سندھ اور بلوچستان سے 23، تئیس ممبران ہیں، فیڈرل ایریا اسلام آباد سے 4 اور فاٹا سے 8 ممبران سینٹ ہیں۔ ان میں سے آدھی تعداد ہر تین سال بعد اپنی چھ سالہ مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جاتی ہے اور ان کی جگہ پر کرنے کیلئے انتخابات ہوتے ہیں۔ اس برس مارچ میں سینٹ کے 52 ممبران ریٹائر ہونگے جس کے بعد چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اپنے اپنے صوبے سے سینیٹر منتخب کرینگے۔ آنے والے سینٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف کا مستقبل روشن دکھائی دے رہا تھا، 11 اگست سے حکومت کے خلاف تحریک انصاف کی تحریک اور دھرنا کے دوران تحریک انصاف کے ماسوائے ممبران خیبر پی کے اسمبلی، سندھ، پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی سے ان کے ممبران مستعفی ہو گئے تاہم سپیکر حضرات نے ان کے استعفے منظور نہیں کئے بلکہ ان کے استعفے پچھلے پانچ ماہ سے معلق رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے سپیکر سراج درانی نے گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے چار ممبران کے استعفے الیکشن کمشن کو بھجوا کر سیاسی تہلکہ مچا دیا۔ سیاسی حلقوں میں سوال گردش کر رہا ہے کہ سندھ اسمبلی سے تحریک انصاف کے ممبران کے استعفوں کو موجودہ حالات میں منظور کر کے ان کے حلقوں میں نئے انتخابات کروانے کیلئے الیکشن کمشن کو بھجوانے کا معاملہ پیپلز پارٹی کا اپنا فیصلہ ہے یا ان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ بھی انڈرسٹیڈنگ ہے، فیصلے سے الیکشن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے مشاہد اللہ خان کے مطابق سندھ اسمبلی کے سپیکر کے فیصلے سے مسلم لیگ ن کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس سوال کہ کیا قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی پنجاب میں مسلم لیگ ن سے وابستہ سپیکر تحریک انصاف کے مستعفی ممبران کے استعفے بھی منظور کر لیں گے انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان اپنی اپنی اسمبلیوں کے کسٹوڈین ہیں، میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے فیصلے قاعدے اور قانون کے عین مطابق ہونگے۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی سے اس صورتحال کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ پارٹی کی کور کمیٹی کرے گی تاہم ان کی ذاتی رائے ہے کہ ہمیں حصہ لینا چاہئے۔ خیبر پی کے اسمبلی میں تحریک انصاف کے ممبران کی کل تعداد 46 ہے جبکہ سینٹ کا ایک ممبر منتخب کرنے کیلئے 13 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہو گی۔ دیگر صوبوں اور قومی اسمبلی میں جو بھی صورتحال بنے کم از کم خیبر پی کے سے پاکستان تحریک انصاف کے 3 سینیٹر منتخب ہو جائینگے۔