دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدارس کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے: خالد مقبول

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدارس کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے: خالد مقبول

لاہور (خبرنگار) لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے کہا کہ ہماری عزت پاکستان کی بدولت ہے۔ اگر ہم آج بھی کسی اور کے غلام ہوتے تو مجھ جیسے مسلمان کو یہاں کوئی خوانچہ اٹھانے کی اجازت بھی نہ دیتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ اطلاعات وثقافت پنجاب کے زیراہتمام ”دہشت گردی کے خلاف قوم عزم صمیم“ کے موضوع پر پنجابی کمپلیکس میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سابق وزیرتعلیم پنجاب میاں عمران مسعود، پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی، مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور ڈاکٹرراغب حسین نعیمی، معروف دانشوروں امجد اسلام امجد، ڈاکٹر عارفہ سیدہ، عطاالحق قاسمی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفی، پروین عاطف، دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر(ر) نادر میر، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نوید چودھری معروف کارٹونسٹ جاوید اقبال، اینکرپرسن سہیل وڑائچ، گلوکار شوکت علی، فلم ڈائریکٹر سیدنور اور ڈائریکٹرپلاک ڈاکٹر صغری صدف نے بھی اظہار خیال کیا۔ جذبہ فاﺅنڈیشن کے صدر سابق گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول نے کہا کہ جب میں پنجاب کا گورنر تھا تو پولیس والوں سے پوچھا کرتا تھا کہ جو دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں۔ اسلام کے بارے میں ان کا تصور کیسا ہے؟ مجھے جواب ملتا تھا کہ ان دہشت گردوں سے کلمہ طیبہ سنانے کے لئے بھی کہیں تو جواب ملتا ہے کہ ” ہم حالت جنگ میں ہیں اورکلمہ یاد کرنے کی ہمیںفرصت نہیں“۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دینی مدارس کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے کیونکہ کسی سیاسی لیڈر میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ دس لاکھ دینی طلبہ کے احتجاجی جلوس کو منتشر کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محفل ہماری خوش قسمتی ہے۔ عطاءالحق قاسمی نے کہا کہ ان سانپوں کو دودھ بھی ہم خود پلاتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنا زہر ”سنپولیوں“ میں بھی منتقل کر کے انہیں حوروں کے خواب دکھائے۔ ان فتنہ گروں کو جہاں سے نظریاتی غذا فراہم ہو رہی ہے اور نفرت کا زہریلا مواد پھیلانے والے گوداموں کو بھی تلف کر دیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفی نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اسلام کو ایک ملزم کے طور پر لا کر کٹہرے میں کھڑا نہ کریں۔ پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد ارشد نے کلمات تشکر کے دوران شرکاءکو یقین دلایا کہ حکومت 70 ہزار معصوم پاکستانیوں کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچائے گی۔ میاں عمران مسعود نے کہا کہ افغانستان ہمیں اپنا دشمن سمجھتا ہے فوج نے قربانی دی مگر اسے متنازعہ بنا دیا گیا۔ اسمبلی میں فوج کو برا بھلا کہا گیا آج اسی فوج کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ بیگم پروین عاطف نے کہا کہ ضیاءالحق نے بنیادپرستی کی بنیاد رکھی نام نہاد مجاہدین تیار کیے جس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ مولانا راغب نعیمی نے کہا کہ جس نے دہشت گردوں کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش کی اسے قتل کر دیا گیا۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم لڑنے کی بات کرتے ہیں یہاں بچوں کے قتل پر 30 ہزار نہیں نکلے۔ فرانس میں 13 قتل ہوئے تو 30 لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ اسی ملک میں گذشتہ 30 برس میں جو کچھ ہوا اس میں مولوی، وردی والا، بغیر وردی والا اور مولوی نہیں سب شامل ہیں۔ ہم تو آج بھی اچھے اور برے طالبان میں پھنسے ہوئے ہیں ہمیں دو لفظی پالیسی اپنانی ہو گی۔ نظریاتی کونسل کو اگر عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں بنانا تو اسے ختم کر دیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ ہمیں موجودہ حالات کا بہت پہلے ادراک ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا ہم نے اپنے معاشرے کے شدت پسند لوگوں کی طبیعت کا فائدہ اٹھا کر انہیں مسلح کیا اور جنگ میں جھونک دیا۔ نوید چودھری نے کہا کہ ہم اقتدار دوست پالیسیاں بناتے ہیں ہمیں انسان دوست عوام دوست پالیسیاں بنانا ہونگی۔ عارفہ سید نے کہا کہ بیت اللہ محسود نے کہا تھا کہ آپ بولتی بہت ہیں آپ کی گردن اتار دیں گے جس پر اسے کہا کہ وہ موت سے کیوں ڈرا رہے ہو وہ ایک حقیقت ہے۔ اگر آپ کے ہاتھوں مرنا ہے تو بچ نہیں سکتی مگر آج وہ خود مرحوم ہے۔