شوگر ملز مالکان نے چینی کا سٹاک غائب کرکے خفیہ گوداموں تک پہنچا دیا

لاہور (رپورٹ: ندیم بسرا سے) پاکستان کے 78 شوگر ملز مالکان نے ملک کے اندر 15 دسمبر تک کے چینی کے سٹاک کو 4 ماہ پہلے ہی غائب کرکے اپنے خفیہ گوداموں تک پہنچا دیا جس کے باعث 34 روپے فی کلو جولائی میں فروخت ہونے والی چینی اگست میں 59 روپے میں فروخت ہونے لگی اور ملک کے اندر خودساختہ چینی کا بحران شروع ہوا۔ 16 کروڑ عوام کو شوگر ملز مالکان نے یرغمال بنانے کےلئے 18 سے 22 ارب روپے کا ناجائز منافع کمانے کا بھی پروگرام بنایا۔ معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے وفاقی حکومت سمیت دیگر اداروں کو 30 مئی 2009ءکو ایک خط لکھا کہ ملک کے اندر 25 لاکھ ٹن چینی کا سٹاک موجود ہے جو 15 دسمبر 2009ءتک کےلئے کافی ہے۔ اس وقت 80 روپے فی من گنا خرید کر مارکیٹ میں 34 روپے فی کلو چینی فروخت ہوئی۔ شوگر ملز مالکان نے جب دیکھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایتھانول بنانے کی وجہ سے چینی کی قیمت میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا تو ناجائز منافع کی خواہش نے چینی کے خودساختہ بحران کو جنم دیا۔ اس صورتحال میں جب ہماری ملکی ضرورت ہر ماہ ساڑھے 3 لاکھ ٹن ہے اور جون جولائی میں 7 لاکھ ٹن چینی استعمال ہوئی۔ اس کے بعد بھی ملک میں 15 لاکھ ٹن چینی موجود ہونی چاہیے تھی۔ اس کے بعد شوگر ملز مالکان نے کارٹل بنا کر قوم کو خودساختہ بحران میں مبتلا کیا اور فی کلو چینی پر 21 روپے سے 23 روپے تک ناجائز منافع کمایا۔ واضح رہے کہ پاکستان ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے خط کی کاپی صوبوں کے تمام وزرائے اعلیٰ، گورنرز، ٹی سی پی اور وفاقی وزار ت صنعت و پیدوار کے پاس موجود ہے۔