ایجنسیاں اپنے مقاصد کیلئے مسلم لیگیوں کا اتحاد کروا رہی ہیں‘ ”یہ کھے“ نہیں کھائیں گے : مسلم لیگ ن

لاہور (سلمان غنی) مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف مسلم لیگوں کے مجوزہ اتحاد اور خصوصاً پیرپگاڑا کے حوالہ سے کسی تبصرہ پر احتراز برت رہے ہیں جبکہ رائیونڈ میں ہونیوالے ایک حالیہ اجلاس میں مجوزہ مسلم لیگ کے اتحاد کو خود مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اور ووٹ بینک پر اثرانداز ہونے کی منظم کوشش اور ایجنسیوں کے کردار کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ جب تک سیاست کو قومی مفادات کے تحفظ، حقیقی جمہوریت کی بحالی، جمہوری اقدار و روایات اور سسٹم کے اندر احتسابی عمل سے مشروط کرکے آگے نہیں بڑھایا جائیگا۔ پاکستان میں سیاست اور جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی اور پاکستان میں عوام اس لئے مایوس ہوئے کہ سیاسی جماعتیں عوام سے طاقت حاصل کرکے اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے ایجنسیوں کی ہدایات پر چلتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں اور پھر عوام سے آنکھیں چار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتے اور آج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ عوام مایوس اور بے چین ہیں اور حکومتیں اور سیاسی جماعتیں انکے احساسات و جذبات کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام نہیں دیتیں۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ہم اِدھر اُدھر دیکھنے کی بجائے اپنی سیاست کو عوام کے مفادات سے مشروط کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور اس حقیقی تبدیلی کو یقینی بنانے کیلئے جو ممکن ہوا کرینگے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین ذرائع کے مطابق ہمارا اصولی فیصلہ ہے کہ ملکی سیاست میں اپنے کردار کو سہاروں سے مشروط کرنے کی بجائے عوام اور جمہوری اصولوں سے وابستہ رکھیں گے اور ہمارا یقین ہے کہ اس بنیاد پر کاربند رہتے ہوئے اقتدار بھی حاصل کرینگے اور خدا اور عوام کی عدالت میں سرخرو بھی ہوں گے۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق پاکستان کے حالات اب ایجنسیوں کی شہ پر اتحادوں کی سیاست اور چور دروازوں کے ذریعے اقتدار کے حصول کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم نے طویل سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کی تاریخ رقم کرکے مسلم لیگ کو اسٹیبلشمنٹ کی جماعت کی بجائے عوام کی جماعت بنایا ہے اور ہم تحریک پاکستان کی طرح جدوجہد کے راستے پر گامزن رہتے ہوئے مقاصد پاکستان کی تکمیل بھی کرینگے اور پاکستان میں ایسا جمہوری و سیاسی سسٹم قائم کرکے رہیں گے جو اشاروں پر ناچنے کی بجائے خالصتاً جمہور اور ملک کے مفادات سے مشروط ہوگا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں البتہ سیاست کو اصولوں سے مشروط رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ماضی میں ہم سے بھی سیاسی غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن اب ہم ایسے کسی عمل کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں جو جمہوریت اور سیاست کی بدنامی کا باعث بنیں۔ ہاں جو لوگ واقعتاً مسلم لیگ کے اتحاد کیلئے مخلص ہیں تو وہ وردی سے چمٹنے اور چور دروازوں کی سیاست سے توبہ کریں تو بات آگے چل سکتی ہے لیکن جب مطمع نظر صرف اور صرف اقتدار ہو اور اس کیلئے چور دروازوں پر انحصار کیا جاتا ہو تو پھر ایسے لوگ ہمیں معاف کریں۔ ہم اپنے سوچے سمجھے راستے پر گامزن ہیں اور اقتدار کو نادیدہ قوتوں کی نوازش سمجھنے کی بجائے اللہ کا انعام اور عوام کی محبت کا ثمر سمجھتے ہیں۔ علاوہ ازیں پارٹی کے ایک سینئر رہنماءنے نوائے وقت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاش اتحاد پاکستان اور خالصتاً مسلم لیگ کیلئے ہو لیکن جو مجوزہ اتحاد ہورہا ہے ہم یہ ”کھے“ کھانے کیلئے تیار نہیں کیونکہ اس کے درمیان ایسا اتحاد ماضی میں ایجنسیوں نے کروایا تھا اور یہ سارے ”دلیر لیڈر“ ڈھیر ہوگئے تھے اور جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارتے اور اقتدار دے جاتے ہیں۔ یہ واپس اپنی دوکانوں پر جابیٹھے اور اب پھر وہی طاقتیں انہیں جمع کرکے اپنا سیاسی کردار جانتی ہیں لیکن ہم نہ ان طاقتوں سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی انکے جال میں پھنسنے کیلئے تیار ہیں۔