فوجی آپریشن دراصل عسکریت پسندی ہے: منور حسن‘ سیاسی فیصلے کرنے چاہئیں تھے: حمید گل

لاہور (خبرنگار خصوصی) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ فوجی آپریشن دراصل عسکریت پسندی ہے‘ حکومت نے اپنے ہی عوام کے خلاف جنگ شروع کی جبکہ بھارت کے حوالہ سے ان کا رویہ بزدلانہ ہے‘ لاکھوں لوگ نقل مکانی پر طالبان نہیں حکومت کی وجہ سے مجبور ہوئے‘ امریکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور ایٹمی پروگرام کے درپے ہے اور اس کیلئے پختونوں کو رکاوٹ سمجھتا ہوا انہیں ٹارگٹ کئے ہوئے ہے‘ اے پی سی ایک ناکام شو تھا۔ فوجی آپریشن کا خاتمہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ 25 لاکھ بے گھر ہونے والوں کا بھی مطالبہ ہے۔ وہ گزشتہ رات وقت نیوز کے پروگرام اگلا قدم میں اظہار خیال کررہے تھے۔ پروگرام کے میزبان سلمان غنی‘ سلمان عابد جبکہ پروڈیوسر میاں شاہد ندیم‘ اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ فوجی آپریشن دراصل سیاست‘ جمہوریت اور حکومت کی ناکامی تھی۔ آج بھی ملک پر فیصلے مسلط ہورہے ہیں‘ شخصی فیصلے اور فیصلوں کا مرکز وہی ہے جہاں اس سے قبل تھا۔ انہوں نے کہا کے ملک کے مفاد میں یہی تھا کہ آپریشن سے قبل سیاسی فیصلے کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کا یہ کہنا کہ بھارت سے خطرہ نہیں 16 کروڑ عوام سے سنگین مذاق ہے۔ آج ایٹمی پروگرام کو امریکہ سے زیادہ بھارت اور اسرائیل سے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کی اصل مشاورت سیاسی قوتوں سے نہیں بلکہ ہالبروک سے کی گئی جو ہمارے لیے قومی سانحہ سے کم نہیں۔ فوجی آپریشن میں مزید پانچ چھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ خدانخواستہ یہ طویل ہوا تو یہ ہماری قومی بدقسمتی ہوگی‘ فوجی حل سیاسی حل کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والوں کیلئے ممکنہ اقدامات ہونے چاہئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ فوجی آپریشن کی حمایت امریکی دبائو کے تحت نہیں قومی مفاد میں کی۔ آل پارٹیز کانفرنس اگر آپریشن سے قبل بلائی جاتی تو موثر اور نتیجہ خیز ہوتی اور قومی اتفاق رائے پیدا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیرستان میں بھی آپریشن کی ضرورت پیش آئی تو پہلے سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ پروگرام کے میزبان سلمان غنی نے کہا کہ فوجی آپریشن کی ضرورت ،اہمیت اپنی جگہ لیکن متاثرہ علاقوں میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ جلد از جلد آپریشن کی تکمیل ہی قومی مفاد میں ہے۔
منور حسن/ حمید گل