حافظ سعید کیس : حکومت نے 27 مئی تک جواب داخل نہ کیا تو فیصلہ سنا دیں گے : ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی + ریڈیو نیوز) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید اور کرنل (ر) نذیر احمد کی نظربندی کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی سماعت 27 مئی تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے ہیں کہ اگر حکومت نے آئندہ سماعت کے دوران جواب داخل نہ کیا تو عدالت نظربندی کیس کا فیصلہ سنادے گی‘ سماعت کے دوران فل بنچ نے جواب داخل نہ کرنے پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نوید عنایت ملک کی سرزنش کی۔ گزشتہ روز ڈپٹی اٹارنی جنرل نوید عنایت ملک نے جسٹس اعجاز احمد چوہدری، جسٹس حسنات احمد خان اور جسٹس زبدۃالحسین پر مشتمل فل بنچ کے سامنے پیش ہوکراستدعاکی کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں نواز شریف اورشہباز شریف کے کیسوں میں مصروف ہیں‘ وہ خود لاہورہائی کورٹ میں فل بنچ کے روبروپیش ہوکر اپنامئوقف بیان کرنا چاہتے ہیں اس لئے 27مئی تک کاوقت دیاجائے جس پر فل بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز احمدچوہدری نے کہا کہ سرکاری وکلاء کے پاس یہ آخری موقع ہے اٹارنی جنرل نہیں آسکتے توآپ خود حکومت کامئوقف پیش کریں۔ یہ نظربندی کاکیس ہے اس میں ایسی کونسی بات ہے کہ آپ خود بات نہیں کرسکتے اورآپ کوباہر سے بندے بلانا پڑرہے ہیں ۔27مئی کے بعد عدالت مزید وقت نہیں دے گی تیاری کرکے عدالت میں پیش ہوں آئندہ تاریخ سماعت پرفاضل عدالت حکومتی مئوقف سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنادے گی۔ حافظ محمدسعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی درخواست پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پربھی سرکاری وکلاء نے اسی بہانہ بازی سے کام لیاتھا‘ سینئر جج صاحبان جوبھی فیصلہ کریں گے ہم انکا احترام کریں گے ہم حق پر ہیں اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں انصاف ملے گا‘ سماعت کے دوران جماعۃالدعوۃ شعبہ سیاسی امور کے سربراہ حافظ عبدالرحمن مکی ،مولٰنا حسنین صدیقی اور حافظ خالد ولید سمیت جماعۃالدعوۃ کے کارکنان و ذمہ داران، وکلاء ،سول سائٹی اوردیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجودتھی۔ ریڈیو نیوز کے مطابق فاضل بنچ نے مزید ریمارکس دئیے اور کہا کہ عدالتوں کو مذاق بنا رکھا ہے اور بار بار ہدایت کے باوجود جواب داخل نہیں کیا جاتا۔
حافظ سعید کیس