کالا باغ ڈیم فوری تعمیر…بھارت کی آبی جارحیت روکی جائے : ایوان کارکنان میں فکری نشست

کالا باغ ڈیم فوری تعمیر…بھارت کی آبی جارحیت روکی جائے : ایوان کارکنان میں فکری نشست

لاہور(خصوصی رپورٹر) بھارت کی آبی جارحیت کے بارے میں قومی و بین الاقوامی سطح پر آگہی پیدا کی جائے۔ انڈس واٹر کمیشن کو ازسرنو منظم کرنے اور اس میں اہل لوگوں کو تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچایا اور کالاباغ ڈیم کو فوری تعمیر کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں عالمی یوم آب کے سلسلے میں منعقدہ فکری نشست بعنوان ’’بھارتی آبی جارحیت اور اس کے مضمرات‘‘ کے دوران کیا۔ نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، ڈیم ایکسپرٹ انجینئر سلیمان نجیب خان، ماہر دفاعی امور کرنل (ر) عبدالرزاق بگٹی، کرنل (ر) زیڈ آئی فرخ، چیئرمین انڈس واٹر کونسل پاکستان حافظ ظہور الحسن ڈاہر، میجر جنرل (ر) راحت لطیف، جسٹس (ر) منیر احمد مغل، مولانا محمد شفیع جوش، میجر (ر) صدیق ریحان، خان فیض ربانی سیال، طارق ڈاہر، زریں انور، راز محمد، ایم یوسف سرور، میجر(ر) غلام سرور، اساتذۂ کرام اور طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔ نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک ، نعت رسول مقبولﷺ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ حافظ امجد علی نے تلاوت جبکہ الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت جن سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے ان میں ایک اہم مسئلہ بھارتی آبی جارحیت کا ہے۔ ڈاکٹر مجید نظامی اور ان کے ادارے اس اہم مسئلے اور اس کے مضمرات سے قوم کو مسلسل آگاہ کر رہے ہیں۔ بھارت کی آبی جارحیت کے مسئلے پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ انجینئر سلیمان نجیب خان نے کہا کہ بھارتی پاکستان کے پانیوں پر بھی اپنا حق سمجھتے ہیں، سندھ طاس معاہدے کے تحت وہ جتنا ہمیں نچوڑ سکتے تھے نچوڑ کر اب اس پر نظر ثانی کی بات کررہے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انڈس واٹر کمیشن کو مضبوط کر کے اس میں اہل لوگوں کو تعینات کیا جائے۔ پاکستان کے پانی کا تحفظ کرنا بھی نظریۂ پاکستان کا ایک اہم پہلو ہے۔ کالا باغ ڈیم بنانے کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جائے جبکہ واپڈا کا چیئرمین بھی ایسے فرد کو بنایا جائے جو کالاباغ ڈیم کا حامی ہو۔ کرنل (ر) عبدالرزاق بگٹی نے کہا کہ ہمیں بھارتی آبی جارحیت کے ساتھ ان وڈیروں اور جاگیرداروں سے بھی خطرہ ہے جو یہاں موجود پانی پر اپنا حق سمجھتے ہیں اور غریبوں کو پانی فراہم نہیں کرنا چاہتے۔ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور پانی سمیت دیگر مسائل حل کیے بغیر تجارت کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا کہ پاکستان میں واٹر مینجمنٹ کی طرف مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ بھارت ہمارے دریائوں پر ڈیم بنا رہا ہے، یاد رکھیں پاکستان اور بھارت کے درمیان اب پانی کے مسئلے پر ہی جنگ ہو گی۔ بھارتی آبی جارحیت کو روکنے کیلئے مناسب اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ کرنل(ر) زیڈ آئی فرخ نے کہا کہ انڈین میڈیا، عوام اور اداروں  کے سامنے بھارت کی آبی جارحیت کو بے نقاب کیا جائے کیونکہ وہ حقائق سے لاعلم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کراچی، بلوچستان، صوبہ خیبر پی کے اور فاٹا میں بھارت ملوث ہے لیکن افسوس جب کوئی بھارتی لاہور آتا ہے تو اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ ہمیںہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ میجر جنرل (ر) راحت لطیف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ بنیادی مسائل حل کیے بغیر امن کی آشا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔