پنجاب اسمبلی : صوبائی حکومت ‘ انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاج ‘ قائم مقام سپیکر اور حکومتی رکن میں جھڑپ

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ سپیشل رپورٹر+ نیوز رپورٹر+ کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ضمنی سوال میں غیر متعلقہ بات سے روکنے پر قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی اور حکومتی رکن چودھری طاہر احمد سندھو کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، سپیکر نے رکن اسمبلی کا مائیک بند کرا دیا، حکومتی رکن اسمبلی نے کہا کہ  بولنا میرا حق ہے اور آپ  یہ حق چھین نہیں سکتے ،کیا آپ یہاں ہائوس کو بلڈوز کرنے کے لئے بیٹھے ہیں جو ایسا کرے گا ہم اسکے خلاف جائیں گے جس پر قائم مقام سپیکر نے کہا کہ آپ نے جو کرنا ہے کر لیں، صوبائی حکومت اور اضلاع کی انتظامیہ کے روئیے کیخلاف اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے احتجاج کیا جبکہ پری بجٹ بحث میں آئندہ سال کے بجٹ کی تجاویز کی خاطر 5 منٹ کا وقت دینے پر احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن کے رکن عارف عباسی ایوان سے واک آئوٹ کر گئے جبکہ ایوان میں 6 تحریک التوائے کار پیش کی گئیں۔ جبکہ ایوان میں اعتراف کیا گیا کہ بعض اوقات سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد مریضوں سے کم پڑ جاتی ہے ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز  مقررہ وقت نو بجے کی بجائے ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں اس وقت ماحول کشیدہ ہو گیا جب سرگودھا سے حکومتی رکن اسمبلی چودھری طاہر علی سندھو نے ضمنی سوال کا وقت مانگ کر دوسرے ایشو پر بات کرنا شروع کر دی جس پر  قائم مقام سپیکر نے انہیں  روکتے ہوئے بیٹھنے کی ہدایت کی جس پر وہ غصہ میں آگئے اور تلخی سے کہا کہ کیا آپ یہاں ہائوس کو بلڈوز کرنے بیٹھے ہیں ۔ جس پر  قائم مقام سپیکر نے انہیں ڈانتے ہوئے کہا کہ آپ چیئرمین  سے اس طرح بات نہیں کر سکتے اور انکا مائیک بند کرا دیا ۔ طاہر  سندھو نے کہا کہ بولنا میرا حق ہے اور آپ مجھ سے یہ حق نہیں چھین سکتے۔ طاہر احمد سندھو کے ہمراہ نشست پر بیٹھے رائو کاشف نے انہیں بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا۔ قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران ارکان اسمبلی کی عدم دلچسپی کے باعث 30میں سے 18سوالات ارکان کے ایوان میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے نمٹا دئیے گئے ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات قسور کریم نے سوالات کے جوابات دیئے ۔اس دوران  قائم مقام  سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کسی بھی محکمے کی طرف سے ایوان میں یہ جواب نہیں دیا جائے گا کہ یہ سوال اسکے متعلقہ نہیں  اگر سوال اس کے متعلقہ نہیں تو وہ اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ محکمے تک پہنچائے۔ وقفہ سوالات میں ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2013-14ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل تمام سکیمیں تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں یہ تمام جاری منصوبہ جات مختلف مالی برسوں میں مکمل ہوں گے۔ حکومتی رکن شیخ علائوالدین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کا چھ چھ ماہ انتظارکرتے ہیں لیکن جب سوال آتا ہے تو ہمیں پتہ نہیں چلتا اس لئے ارکان اسمبلی کو اگلے روز کے سوالات کے بارے میں ایک روز قبل پیشگی آگاہ کیا جائے۔  قائم مقام سپیکر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ پارلیمانی سیکرٹری پارلیمانی امور نے ایک تحریک التوائے کار پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کے لئے ہر طرح کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں تاہم بعض اوقات سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد کم پڑ جاتی ہے۔ ادھر اجلاس میں حکومتی رکن اسمبلی آزاد علی تبسم نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ عمر اکمل کے واقعے کے بعد ٹریفک وارڈنز کی بد تمیزیاں حد سے بڑھ گئی ہیں۔ جس پر قائم مقام   سپیکر نے کہا کہ  آپ اس پر تحریک استحقاق لائیں ۔ خاتون حکومتی رکن اسمبلی عظمیٰ زاہد بخاری نے بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جس وارڈن کی میں نے شکایت کی تھی اسکے ذہنی مریض ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور خواتین سے بد تمیزی کرنا اس کا معمول ہے    جس پر شیخ علائو الدین نے کہا کہ سپیکر آپ تحریک استحقاق کی بجائے از خود نوٹس بھی  لے کر کارروائی کر سکتے ہیں او رآپ کو نوٹس لینا چاہیے۔ دریں اثناء چولستان ترقیاتی ادارہ بہاولپور کی رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پڑھا لکھا چولستان پروجیکٹ 31مارچ سے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا کیونکہ پروجیکٹ کے مقاصد حاصل کرلئے گئے ہیں ۔رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ پروجیکٹ کے تحت 8سکول پہلے ہی بند ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹیچر کو 5 ہزار اور جونیئر ٹیچر کو ڈھائی ہزار تنخواہ اعزازیہ دی جارہی ہے جبکہ پروجیکٹ کے تحت ضلع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں 75 چولستان کمیونٹی سکول بنائے گئے۔کمیونٹی سکول میں 4ہزار  565 طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ پری بجٹ بحث کے دوران اپوزیشن کے رکن اسمبلی احمد خان بچھر نے کہا کہ پچھلے دور میں مشہور تھا کہ فلاں کام زردای کر رہے ہیں یا نہیں ہونے دے رہے مگر اب ضلعی انتظامیہ مان مانی کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس کام کا حکم میاں صاحب (شہباز شریف) نے دیا ہے حالانکہ ہم نہیں سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلی بیڈ گورننس کا حکم دیں گے۔ نبیلہ حاکم علی نے کہا امن کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے انفرسٹریکچر نہیں ہے پینے کا صاف پانی میسر نہیں اس وقت پنجاب میں صحت پر فی کس 177 روپے خرچ کر رہے ہیں ۔ ایجوکیشن پر فی کس 150 روپے خرچ کر رہے ہیں۔ انفرسٹریکچر پر 695 روپے فی کس خرچ کر رہے ہیں۔ عرفان دولتانہ نے کہا دانش سکولز پر توجہ دی جائے فنڈز دئیے جائیں۔ علاوہ ازیں واک آئوٹ کرنے والے عارف عباسی نے واپس آکرکہا کہ اسمبلی پر کروڑوں روپے عوام کا خرچ ہو رہا ہے حکومت قانون سازی کر تے ہوئے کورم پورا نہیں رکھ سکتی انہوں نے کہا کہ اربوں روپیہ پولیس پر لگا رہے ہیںمظفر گڑھ کیس نے پولیس کو بے نقاب کر دیا ہے لیکن ہمارے وزیر قانون نے اسمبلی میں سارا ملبہ مظفر گڑھ کی خاتوں اور ان کے گھر والوں پر ڈال دیا ہے ہر واقعہ وزیراعلیٰ کے نوٹس میں نہیں آ سکتا ہے اسلئے سسٹم کو ٹھیک کیا جائے۔ میاں رفیق نے کہا کہ بچہ سکہ مجھے دھمکیاں دلوا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پری بجٹ تجاویز پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی ارشد خان لودھی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت زراعت پر توجہ دے اور زائد فنڈز مختص کرے۔ دیہاتی شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں اسے روکنے کے لئے حکومت دیہاتوں میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور روزگار کی سہولتیں فراہم کرے۔ ڈاکٹر فرزانہ نے کہا کہ زراعت کے لئے زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کیا جائے۔ کسانوں کے لئے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ کسانوں کو ون ونڈو کے تحت بلاسود قرضے دئیے جائیں۔ ٹیچنگ ہسپتالوں کو جدید بنایا جائے گروہ، جگر ٹرانسپلانٹ کے سینٹر بنائے جائیں۔ ڈاکٹروں کیلئے سروس سٹرکچر فوری طور پر بنایا جائے۔ دیہی خواتین کو بلاسود قرضے دئیے جائیں۔ میاں شوکت لالیکا نے کہا کہ دنیا کا بہترین نہری نظام تباہی کے دہانے پر ہے اسے ٹھیک کیا جائے۔ ٹریکٹرز پر ڈیوٹی ختم کی جائے۔ زرعی شعبے کے لئے بجلی ٹر ٹیکس معاف کیا جائے۔ حنا پرویز بٹ نے کہا کہ افراط زر بہت بڑھ رہا ہے اس لئے کم سے کم تنخواہ 15 ہزار ہونی چاہئے۔ جو لوگ حادثات میں مرتے یا زخمی ہوتے ہیں انکے لئے لائف کوریج سکیم شروع کی جائے۔ خواتین ارکان اسمبلی کو ترقیاتی بجٹ لازمی دیا جائے۔ اقلیتی رکن اسمبلی شہزاد منشی نے کہا کہ مردم شماری ہوئے 33 سال ہو گئے ہیں اقلیتی کوٹہ 5 فیصد مختص ہے۔ اب ہماری کمیونٹی بہت بڑھ گئی ہے اس لئے کوٹہ 5 فیصد سے بڑھایا جائے۔ مظہر عباس رانا نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ زیادہ تر شہروں میں لگ جاتا ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کے لئے نئے شہر بنائے جائیں اور دیہاتوں میں سہولتیں فراہم کی جائیں۔ علی اصغر منڈا نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں تعلیم، صحت، سینٹی ٹیشن اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے زائد بجٹ مختص کرے۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی میں 6تحریک التوائے کار پیش کی گئیں۔ جن میں مونس الہیٰ، عامر سلطان چیمہ، سردار وقاص موکل کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التوائے کار میں کہا گیا کہ صوبہ پنجاب کے ہسپتالوں میں Audiologistنہیں ہیں جو کہ سماعت سے محروم ہو جانے والے بچوں کی بڑی تعداد سے نمٹنے سے محروم ہیں۔ صرف سروس اور چلڈرن ہسپتالوں میں دو Audiologistہیں جن میں سے ایک ترقی کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے گئے ہیں۔ جبکہ صورت حال یہ ہے کہ سماعت سے محروم افراد کی تعداد صونہ پنجاب میں سب سے زیادہ ہے۔ بروقت علاج و معالجے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سکول جانیوالے بچوں میں 5سے 6بچے فی ہزار کو مستقل بہرے پن کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ لہذا اس پر فوری باضابطہ بحث کی جائے۔ مظہر عباس راں نے تحریک التوائے کار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملتان، فیصل آباد، موٹروے سیکشن زیر تعمیر ہے۔ بھاری مشینری استعمال ہو رہی ہے، مرمت کے ٹھیکہ کی شرائط میں یہ شق موجود ہے کہ ان سڑکوں و سولنگ اور پلوں کے ٹوٹ پھوٹ کی مرمت ٹھیکہ دار کے ذمہ ہو گی، ٹھیکہ دار کو پابند بنایا جائے۔ ممبر پنجاب اسمبلی منان خان نے تحریک التوائے کار میں کہا کہ نارووال سے مریدکے تک سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار، سٹرک پر ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ، مریض راستہ ہی میں مرنے لگے ہیں اس پر بحث کی جائے۔ ڈاکٹر مراد راس، راحیلہ انور، شنیلا روت نے تحریک التوائے کار پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی پنجاب میں تقریبا 100ڈویژنوں میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ورک چارج کے نام پر قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے اس پر بحث کرتے ہوئے کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ممبر پنجاب اسمبلی شنیلاروت، سعدیہ سہیل رانا کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التوائے کار میں کہا کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید خواتین کی اکثریت کی حالت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابتر ہوتی جارہی ہے اور انکی بھلائی کے سلسلے میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ ڈاکٹر مراد راس، شنیلا روت ، سعدیہ سہیل رانا نے تحریک التوائے کار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹولنٹن مارکیٹ میں کھلے عام بیمار اور چھوٹے جانوروں کی فروخت نے اصل دکانداروں کا بھی کاروبار تباہ کر دیا ہے۔ مارکیٹ میں تجاوزات کی بھر مار جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں، اس اہم اور فوری نوعیت کے مسئلے کو زیر بحث لایا جائے۔ علاوہ ازیں وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن، خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پری بجٹ تجاویز کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی سیکرٹر یٹ میں بہت ساری غیر ضروری آسامیاں ختم کر دی گئیں ،وزیر اعلی سیکرٹریٹ کو ضمنی گرانٹس اس لئے فراہم کی جاتی ہیں کہ وہاں غیر ملکی وفود کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ 60 نئے پولیس اسٹیشن قائم کئے جارہے ہیں ،دہشت گردی کو روکنے کے لئے لاہور میں دو اسٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ لیپ ٹاپ سکیم پر 17 ارب روپے خرچ نہیں ہوئے بلکہ 7 ارب اور کچھ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 4 پسماندہ اضلاع میں ہیلتھ انشورنس سکیم کے اجراء کے لئے 4 ارب روپے اور کم وسیلہ افراد کو صحت کی بلامعاوضہ معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے 7 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ شعبہ صحت ترقیاتی منصوبوں پر 17 ارب روپے کی کثیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔