ملکی صحافتی تاریخ حمید نظامی کے بغیر ادھوری ہے: بشریٰ رحمن

ملکی صحافتی تاریخ حمید نظامی کے بغیر ادھوری ہے: بشریٰ رحمن

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) ’’دور حاضر کے میڈیا پر حمید نظامی کی بے باک اور نظریاتی صحافت کے اثرات‘‘ کے موضوع پر گزشتہ روز حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر فرید پراچہ اور سابق ممبر قومی اسمبلی بشریٰ رحمن تھیں۔ جسٹس (ر) محبوب احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حمید نظامی آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ حمید نظامی جو کہتے‘ وہ کرکے دکھاتے تھے۔ آجکل کی بے باک صحافت بدتمیزی اور بلیک میلنگ ہے۔ حمید نظامی نے کبھی قومی و ملکی مفاد کے خلاف بے باکی نہیں دکھائی۔ اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد قربان کردینا ہی صحافت ہے۔ صحافیوں کو اپنے لئے خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہئے۔ ٹی وی پرگراموں میں کوئی ضابطہ اخلاق نہیں۔ تمام حدیں پار کر دی جاتی ہیں۔ فرید پراچہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آجکل کی صحافت کے ذریعے ذہنوں کو آلودہ کیا جا رہا ہے۔ حمید نظامی کی پاک صاف صحافت کے اثرات آج بھی ان کے ادارے نوائے وقت میں موجود ہیں۔ بے باک صحافی کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوئے بھی اس پر تنقید کرنے کی جرأت رکھتا ہے۔ بشریٰ رحمن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کی بات حمید نظامی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ پاکستان بناتے وقت قائداعظم کا ساتھ دینے والوں میں حمید نظامی صف اول میں شامل تھا۔ آج جو کہتے ہیں‘ پاکستان کیوں بنا انہیں دو قومی نظریے کا پتہ ہی نہیں۔ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کو اچھوت کہتے تھے۔ پانی بیچنے والا بھی ہندو پانی اور مسلم پانی کی آواز لگاتا۔ قلم کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے۔ آج حکمران کوشش کرتے ہیں قلم کی طاقت کو خرید لیا جائے حمید نظامی کی صحافت بے باک اور بے داغ تھی۔ سینئر صحافی تنویر ظہور نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب حمید نظامی کا انتقال ہوا تو وہ 8 برس کے تھے۔ حمید نظامی کی قبر پر بھی کتبہ لگا ہے کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامی نے حکمرانوں کو کبھی خوش آمد نہیں کی۔ ہمیشہ بے باکی سے کام کیا۔ ان کے قلم نے ہمیشہ سچ لکھا۔ نعیم مسعود نے کہا کہ حمید نظامی نے اپنے کردار کی وجہ سے مخالفوں کو بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور کیا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی حمید نظامی تھکے نہیں بلکہ تحریک پاکستان کے بعد تحریک استحکام پاکستان کیلئے کام کیا۔ شرکاء میں ہلال احمر کی ڈاکٹر فوزیہ سعید اور گرل گائیڈ کی ٹرینر سلمیٰ سجاد بھی موجود تھیں۔ مقررین کے خطاب سے پہلے حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اگر عہد گزشتہ پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران اردو صحافت اس دور کے فکری انحطاط و انتشار کی مبہم سی عکاسی کرتی نظر آتی ہے‘ لیکن اس کے فوراً بعد غیر منقسم ہندوستان کے لوگوں کیلئے کچھ اصلاحی اور سیاسی تحریکوں کا آغاز ہوا تو ان تحریکوں کا چرچا بھی اسی دور کی صحافت میں نظر آنے لگا۔ جو صحافی 19 ویں صدی کے آخری عہد کی صحافت کی پہچان بنے ان میں سرسید احمد خان‘ مولانا عبدالحلیم شرر‘ منشی محبوب عالم اور منشی سجاد حسین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ حمید نظامی پاکستان میں حق گوئی‘ بے باکی اور نظریاتی صحافت کے بانی ہیں اور ساری زندگی اس پر کاربند رہے‘ لیکن انہیں اسے رواج دینے کیلئے زندگی کم ملی۔ ان کے جانے کے بعد حق گوئی‘ بے باکی اور نظریات پر ڈٹے رہنے کا علم ڈاکٹر مجید نظامی نے تھام لیا جسے وہ آج تک بلند رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے صحافت کو سائنس کے درجہ پر فائز کر دیا ہے۔